تکبیر نیوز (لیسٹر): لیسٹرشائر اور رٹلینڈ کے پولیس اینڈ کرائم کمشنر روپرٹ میتھیوز نے College of Policing کی پالیسیوں، پولیس تربیت اور ادارے میں اختلافی رائے کی گنجائش پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔
روپرٹ میتھیوز اس وقت لیسٹرشائر اور رٹلینڈ کے منتخب پولیس اینڈ کرائم کمشنر ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق وہ پہلی مرتبہ 2021 میں منتخب ہوئے تھے، 2024 میں دوبارہ کامیاب ہوئے اور اگست 2025 میں Reform UK میں شامل ہوگئے تھے۔
اپنی ایک تحریر میں میتھیوز نے نارتھ ویلز کے علاقے ریکسم میں ایک دکاندار سے متعلق واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس کی ترجیحات اور تربیت پر تنقید کی۔
ان کے مطابق دکاندار مسلسل چوریوں سے تنگ آکر قیمتی سامان لاک شدہ الماریوں میں رکھنے لگا تھا اور اس نے اپنی دکان پر ایک سخت الفاظ پر مشتمل نوٹس لگا دیا۔ میتھیوز کا دعویٰ ہے کہ بعد میں پولیس نے دکاندار سے نوٹس ہٹانے کے لیے رابطہ کیا کیونکہ اس سے کسی شخص کو اعتراض ہوا تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی شخص کا کسی عبارت سے ناراض ہونا بذاتِ خود جرم نہیں، اس لیے پولیس کو اپنی توجہ قانون نافذ کرنے اور حقیقی جرائم پر مرکوز رکھنی چاہیے۔
پولیس تربیت پر سوال
میتھیوز نے اس واقعے کو پولیس افسران کی تربیت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پولیس کا بنیادی کام امن و قانون قائم رکھنا ہے اور افسران کو ان قوانین کے بارے میں واضح تربیت ملنی چاہیے جن پر انہیں عمل درآمد کرانا ہوتا ہے۔
انہوں نے اس سلسلے میں College of Policing کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو انگلینڈ اور ویلز میں پولیسنگ کے پیشہ ورانہ معیارات اور تربیتی نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خود College of Policing کی جانب سے جولائی 2026 میں شائع ایک بڑی پولیس لیڈرشپ ریویو میں بھی بھرتی، تربیت، ترقی، کارکردگی اور قیادت کے نظام میں بنیادی اور وسیع اصلاحات کی سفارش کی گئی تھی۔
بورڈ میں شامل ہونے کی درخواست بھی دی
میتھیوز کے مطابق انہیں College of Policing کے بورڈ میں نئے Non-Executive Directors کی بھرتی کا علم ہوا، جن میں ایک جگہ پولیس اینڈ کرائم کمشنر کے نمائندے کے لیے تھی، جس پر انہوں نے خود درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔
تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ درخواست کے ضروری معیار میں امیدوار سے College of Policing کے مقاصد کی حمایت اور اس کی پالیسیوں کو برقرار رکھنے کی توقع کی گئی تھی۔
میتھیوز کے بقول یہی شرط ان کے لیے بنیادی مسئلہ تھی کیونکہ وہ بورڈ میں شامل ہوکر موجودہ پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتے تھے۔
انہوں نے دلیل دی کہ کسی ادارے کی موجودہ پالیسیوں سے اختلاف کسی شخص کو اس کے بورڈ یا فیصلہ سازی کے عمل سے خودکار طور پر باہر رکھنے کی بنیاد نہیں ہونا چاہیے۔
College of Policing کے موجودہ گورننس ڈھانچے کے مطابق اس کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کے ساتھ پولیس اینڈ کرائم کمشنرز، چیف کانسٹیبلز اور پولیس کے مختلف شعبوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، جبکہ بورڈ ادارے کی طویل مدتی حکمت عملی اور سمت طے کرتا ہے۔
اختلافِ رائے اور تنوع پر بحث
میتھیوز نے اپنی تحریر میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ سرکاری ادارے نسلی، مذہبی اور دیگر اقسام کے تنوع پر تو زور دیتے ہیں، لیکن خیالات اور سیاسی یا پالیسی اختلاف کے لیے اتنی گنجائش نہیں رکھتے۔
انہوں نے College of Policing کے موجودہ طرزِعمل کو اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور فوجداری انصاف کے نظام میں عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پالیسی اور تربیت دونوں سطحوں پر تبدیلی ضروری ہے۔
میتھیوز کے مطابق انہوں نے اعتراضات کے باوجود بورڈ کے عہدے کے لیے درخواست دی، تاہم انہیں اس عہدے کے لیے منتخب نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ College of Policing کے بارے میں متعدد سخت اصطلاحات اور “two-tier policing” سے متعلق الزامات روپرٹ میتھیوز کی ذاتی سیاسی و پالیسی رائے ہیں، نہ کہ ثابت شدہ غیر جانبدار حقائق۔
