تکبیر نیوز (گلاسگو): برطانیہ میں پولیس اسکاٹ لینڈ کے ایک سابق افسر کو 17 سال کے دوران خواتین کے خلاف ریپ اور دیگر سنگین جنسی جرائم کے مقدمے میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
گلاسگو کی ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے بعد 50 سالہ کیمبل پیٹری (Campbell Petrie) کو مجموعی طور پر 9 الزامات میں قصوروار پایا گیا۔ یہ جرائم 2006 سے 2023 کے درمیان کیے گئے تھے۔
عدالت میں ثابت ہونے والے جرائم میں ریپ کے دو الزامات کے علاوہ غیر اخلاقی جنسی حملہ، ریپ کی نیت سے حملہ اور ایسے حملے کے الزامات شامل تھے جن سے متاثرین کو جسمانی نقصان پہنچا اور ان کی جان خطرے میں پڑی۔
اہم بات یہ ہے کہ جرائم کے عرصے کے دوران پیٹری پولیس اسکاٹ لینڈ میں حاضر سروس افسر تھا، تاہم پولیس کے مطابق زیرِ سماعت جرائم ڈیوٹی کے دوران نہیں کیے گئے تھے۔
پولیس اسکاٹ لینڈ کے مطابق پیٹری کو دسمبر 2023 میں گرفتار کرکے اس پر فردِ جرم عائد کی گئی، جس کے بعد اسے ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ سال پولیس فورس سے ریٹائر ہوگیا تھا۔
عدالت کی جانب سے مجرم قرار دیے جانے کے بعد پیٹری کو عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ اسے آئندہ ماہ سزا سنائی جائے گی۔
پولیس اسکاٹ لینڈ کے پبلک پروٹیکشن یونٹ کے ڈیٹیکٹو سپرنٹنڈنٹ ایڈم براؤن نے متاثرین کی جانب سے جرائم کی اطلاع دینے اور مقدمے کو انجام تک پہنچانے کے لیے دکھائی گئی ہمت کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ جنسی جرائم کی اطلاع دینا متاثرین کے لیے انتہائی مشکل ہوسکتا ہے، خصوصاً اس صورت میں جب مبینہ مجرم خود پولیس افسر ہو۔
ایڈم براؤن کے مطابق پولیس ایسے افسران کی شناخت کرکے ان کے خلاف تحقیقات کرے گی چاہے وہ حاضر سروس ہوں یا ریٹائر ہوچکے ہوں اور چاہے جرم ڈیوٹی کے دوران کیا گیا ہو یا ڈیوٹی سے باہر۔
انہوں نے کہا کہ پیٹری کو اب اپنے کیے کے قانونی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب رواں سال ایک اور پولیس افسر ایلن گریر (Alan Greer) سے متعلق تحقیقات میں خواتین کے خلاف طویل عرصے تک سنگین جنسی جرائم کے الزامات سامنے آئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس اسکاٹ لینڈ نے گریر سے منسلک 15 متاثرین کی شناخت کی تھی، تاہم حکام کو خدشہ تھا کہ متاثرین کی حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے۔ گریر رواں سال مئی میں اپنے گھر پر پولیس چھاپے اور تحقیقات کے چند روز بعد ہلاک ہوگیا تھا۔
