تکبیر نیوز (وولورہیمپٹن): وولورہیمپٹن وانڈررز اور اسٹوک سٹی کے درمیان فٹبال میچ کے بعد وولورہیمپٹن سٹی سینٹر میں مبینہ ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں ویسٹ مڈلینڈز پولیس نے چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں سے تین پر پبلک آرڈر جرم کے تحت فردِ جرم عائد کردی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی کا تعلق 29 اگست کو وولوز اور اسٹوک سٹی کے میچ کے بعد سٹی سینٹر میں پیش آنے والی ہنگامہ آرائی کی اطلاعات سے ہے۔
15 ستمبر کی صبح پولیس نے وولورہیمپٹن، ولن ہال اور برمنگھم میں مختلف پتوں پر کارروائی کرتے ہوئے 64، 54 اور 37 سال کے تین افراد کو گرفتار کیا۔
بعد ازاں دوپہر کے وقت 55 سالہ شخص کو پولیس اسٹیشن میں ہنگامہ آرائی (Affray) کے شبہے میں گرفتار کیا گیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس شخص کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس کے مطابق پہلے گرفتار ہونے والے تینوں افراد پر پبلک آرڈر جرم کے تحت فردِ جرم عائد کردی گئی ہے، جبکہ 64 سالہ شخص پر ایک پولیس افسر کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور افسر پر حملہ کرنے کا اضافی الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
تینوں افراد کو سخت شرائط کے ساتھ پولیس ضمانت پر رہا کیا گیا ہے اور انہیں اگلے ماہ ڈڈلی مجسٹریٹس کورٹ میں پیش ہونا ہے۔
ضمانت کی شرائط کے تحت تینوں افراد کے کسی بھی باقاعدہ فٹبال میچ میں شرکت کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ وولورہیمپٹن وانڈررز کے میچ والے دن انہیں میچ سے پہلے اور بعد کے مخصوص اوقات میں وولورہیمپٹن سٹی سینٹر میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس فٹبال یونٹ کے انسپکٹر نک برٹن نے کہا کہ یہ گرفتاریاں واضح پیغام ہیں کہ پولیس میچ سے پہلے، دوران یا بعد میں کسی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی خصوصی ٹیمیں فٹبال سے متعلق تشدد میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت اور انہیں حراست میں لینے کیلئے مسلسل کام کررہی ہیں۔
یہ کارروائیاں اتوار 20 ستمبر کو مولینیو میں وولورہیمپٹن وانڈررز اور ویسٹ بروموچ البیون کے درمیان ہونے والے بلیک کنٹری ڈربی سے قبل سامنے آئی ہیں۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق گزشتہ بلیک کنٹری ڈربی میں بھی لڑائی جھگڑے کے واقعات کے باعث کھیل کو عارضی طور پر روکنا پڑا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 29 اگست کے واقعات کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ معلومات رکھنے والے افراد 101 پر رابطہ کرکے کرائم ریفرنس 20/380807/26 فراہم کرسکتے ہیں۔
تین افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم ان کے خلاف جرم ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوا، جبکہ 55 سالہ شخص کو شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
