تکبیر نیوز (برینٹری): برینٹری میں فائرنگ کے واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے 16 سالہ لڑکے کو نومبر تک ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیر 31 اگست کو رات تقریباً 10 بج کر 10 منٹ پر مارکیٹ پلیس میں پیش آیا، جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے دو نوجوانوں کے چہرے پر ممکنہ طور پر سنگین نوعیت کی چوٹیں آئیں، تاہم بعد میں چیف سپرنٹنڈنٹ روب کربی نے بتایا کہ دونوں نوجوانوں کے چہرے اور جسم کے اوپری حصے پر آنے والی چوٹیں توقع سے کہیں کم سنگین ہیں اور جان لیوا نہیں۔
واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 16 سالہ لڑکے کو اب 30 نومبر تک ضمانت پر رہا کردیا گیا ہے۔
چیف سپرنٹنڈنٹ روب کربی کے مطابق پولیس فی الحال اسے کوئی بے ترتیب یا اچانک حملہ نہیں سمجھ رہی، بلکہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مخصوص گروپ نے دوسرے مخصوص گروپ کو نشانہ بنایا۔
پولیس کی موجودہ تحقیقات کے مطابق واقعہ ممکنہ طور پر منشیات کی فروخت سے منسلک ہے۔
روب کربی نے کہا کہ چونکہ پولیس کا خیال ہے کہ یہ ایک مخصوص گروپ کو نشانہ بنانے والا حملہ تھا، اس لیے عام شہریوں کو اس وقت کسی مسلسل خطرے کا سامنا نہیں ہے۔
انہوں نے مقامی کمیونٹی کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایسیکس اور بالخصوص برینٹری میں اس نوعیت کے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں اور پولیس ایسے واقعات کو برداشت نہیں کرے گی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد چار نوجوان مرد یا نوعمر لڑکے علاقے سے ٹرین اسٹیشن کی سمت جاتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ ان کی شناخت، تلاش اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات میں علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ عینی شاہدین کے بیانات بھی حاصل کیے جارہے ہیں۔
پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان اطلاعات کی بھی تردید کردی ہے کہ واقعے میں چھریاں یا مچیٹیاں استعمال کی گئی تھیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ واقعے میں کوئی مچیٹی استعمال نہیں ہوئی۔
برینٹری ٹاؤن میں پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹیں اب ہٹا دی گئی ہیں، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز تک علاقے میں نمایاں پولیس موجودگی برقرار رہے گی۔
