تکبیر نیوز (کوونٹری): کوونٹری میں اسکول سے گھر واپس جاتے ہوئے 12 سالہ کیٹن سلیٹر کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے والے شخص نے خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے موت واقع کرنے کا جرم قبول کرلیا ہے۔
23 سالہ لٹوین شہری ڈولارس الیگزینڈرز نے 2024 میں پیش آنے والے ہٹ اینڈ رن واقعے میں کیٹن کی موت کا ذمہ دار ہونے کا اعتراف کیا۔ وہ گزشتہ ماہ لٹویا سے برطانیہ واپس لایا گیا تھا۔
الیگزینڈرز نے واروک کراؤن کورٹ میں جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کی اور صرف اپنے جرم کا اقرار کرنے کے لیے بات کی۔
عدالت نے بتایا کہ ملزم کو 13 نومبر کو سزا سنائی جائے گی۔ جج میتھیو والش نے ملزم سے کہا کہ اسے دی جانے والی سزا واضح طور پر طویل مدت کی ہوگی، تاہم حتمی سزا جج کرسٹینا مونٹگمری کے سی طے کریں گی۔
یہ واقعہ 14 جون 2024 کو پیش آیا تھا، جب الیگزینڈرز نے اپنی سیاہ رنگ کی بی ایم ڈبلیو 330 سے ریڈفورڈ روڈ پر اسکول سے گھر جاتے ہوئے کیٹن کو ٹکر ماری۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق حادثے کے وقت گاڑی میں چار افراد سوار تھے اور گاڑی رفتار کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ تیزی سے چل رہی تھی۔
حادثے کے بعد الیگزینڈرز موقع سے فرار ہوگیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ لٹویا چلا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے اسے تحقیقات میں مطلوب شخص قرار دیے جانے کے بعد اسے برطانیہ واپس لانے کی کوششیں شروع کردی گئی تھیں۔
اس کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر کرائم اسٹاپرز کی جانب سے 10 ہزار پاؤنڈ انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔
الیگزینڈرز گزشتہ ماہ دو سال سے زائد عرصے تک پولیس سے بچنے کے بعد گیٹ وِک ایئرپورٹ پہنچا، جہاں سے اسے ویسٹ مڈلینڈز میں حراستی مرکز منتقل کردیا گیا۔
کیٹن کے والدین لوئیس اور کلنٹ سلیٹر سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے۔ خاندان نے اپنے بیان میں کہا کہ دو سال تک وہ اپنے بیٹے کی موت کے غم کے ساتھ ساتھ انصاف کے لیے بھی جدوجہد کرتے رہے۔
والدین نے کہا کہ ملزم کی برطانیہ واپسی اور جرم قبول کرنے سے انہیں یہ احساس ہوا ہے کہ کیٹن کے لیے انصاف ہوا، تاہم کوئی سزا بھی بیٹے کو کھونے کا درد ختم نہیں کرسکتی۔
تحقیقات کی سربراہی کرنے والے ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر سام لیوس نے کہا کہ معاملہ ہمیشہ کیٹن اور اس کے خاندان کے لیے انصاف حاصل کرنے کا تھا۔
پولیس افسر کے مطابق الیگزینڈرز انتہائی خطرناک رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا اور اسے تصادم کے اثرات کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ ان کے بقول ملزم کیٹن کی مدد کرنے کے بجائے موقع سے فرار ہوگیا اور اسے شدید زخمی حالت میں چھوڑ دیا۔
کیٹن کی موت کے بعد کوونٹری کی مقامی کمیونٹی نے بھی خاندان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔ وہ کوونٹری سٹی کا بڑا مداح تھا اور جولائی 2024 میں اس کے اہل خانہ نے لیمنگٹن ایف سی اور اسکائی بلیوز اکیڈمی کے کھلاڑیوں کو میدان میں متعارف کرایا تھا۔
اس میچ کے دوران 12 سالہ کیٹن کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ میچ کے اختتام پر اس کے والدین کو تقریباً 300 پاؤنڈ کی رقم بھی پیش کی گئی۔
2025 میں کوونٹری سٹی کونسل نے ریڈفورڈ روڈ پر رفتار کی حد 20 میل فی گھنٹہ کرنے کا اعلان کیا، اسی سڑک پر کیٹن کو گاڑی نے ٹکر ماری تھی۔
کوونٹری نارتھ ویسٹ کی رکنِ پارلیمنٹ تائیوو اوواٹیمی نے کیٹن کی موت کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ سٹی کونسل نے کیٹن کے نام پر پیش کی گئی درخواست کا جواب دیا۔
