تکبیر نیوز (کِلارنی، آئرلینڈ): آئرلینڈ کے شہر کِلارنی میں 43 سالہ امریکی خاتون جیمی کارنی اپنے گھر میں مردہ پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق جیمی کارنی کی لاش 7 جولائی کی دوپہر مکروس روڈ پر واقع ان کے گھر سے ملی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون کے سر پر شدید چوٹوں کے نشانات تھے، جبکہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان کی موت پیر کی رات یا منگل کی علی الصبح واقع ہوئی۔
تحقیقات کے مطابق جیمی کارنی کی 13 سالہ بیٹی نے والدہ سے رابطہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک خاندانی دوست کو اطلاع دی۔ بعد ازاں پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے، تاہم خاتون کو مردہ قرار دیا گیا۔
مشتبہ شخص کی تلاش جاری
آئرش پولیس (گارڈا) کے مطابق واقعے کے سلسلے میں جس شخص کی تلاش کی جا رہی ہے، اس کی عمر تقریباً 20 برس بتائی جا رہی ہے اور وہ مقتولہ کا جاننے والا تھا۔
تحقیقات کے مطابق مشتبہ شخص آئرلینڈ میں بین الاقوامی تحفظ (پناہ) کے لیے درخواست دے چکا تھا اور کِلارنی کے ایک سرکاری رہائشی مرکز میں مقیم تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات مقتولہ کے گھر بھی آتا جاتا تھا۔
پولیس نے اس مرحلے پر مشتبہ شخص کا نام جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس کے خلاف کوئی حتمی قانونی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
مقامی آبادی میں سوگ کی فضا
جیمی کارنی گزشتہ تقریباً پانچ برس سے کِلارنی میں رہائش پذیر تھیں اور مقامی کمیونٹی میں ایک محنتی اور سماجی خاتون کے طور پر جانی جاتی تھیں۔
مقامی کونسلر مارٹن گریڈی نے کہا کہ جیمی ایک محبت کرنے والی ماں تھیں اور کمیونٹی کے لیے ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتی رہیں۔ ان کے مطابق اس واقعے نے پورے شہر کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔
کونسلر جان او ڈونوگھو نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی فضا سوگوار ہے اور ہر شخص اس المناک واقعے پر صدمے میں ہے۔
پولیس کی عوام سے اپیل
آئرش پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ 6 جولائی کی شام سے 7 جولائی کی دوپہر کے درمیان مکروس روڈ اور اس کے اطراف موجود کوئی بھی شخص، یا جس کے پاس ڈیش کیم، سی سی ٹی وی یا ڈور بیل کیمرے کی فوٹیج موجود ہو، وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پولیس جس شخص کی تلاش کر رہی ہے، اس کے خلاف تاحال عدالت میں جرم ثابت نہیں ہوا، اس لیے قانون کے مطابق اسے اس مرحلے پر صرف مشتبہ شخص تصور کیا جا رہا ہے۔
