تکبیر نیوز، مانچسٹر: مانچسٹر یونائیٹڈ کے مجوزہ ایک لاکھ نشستوں والے نئے اسٹیڈیم کے منصوبے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کلب ذرائع کا کہنا ہے کہ اینڈی برنہم کی متوقع روانگی کے باوجود اولڈ ٹریفورڈ کی ازسرِنو ترقی اور نئے اسٹیڈیم کا منصوبہ متاثر نہیں ہوگا۔
اینڈی برنہم، جو گریٹر مانچسٹر کے میئر کے طور پر اس منصوبے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں، قومی سیاست میں اہم ذمہ داری سنبھالنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ تاہم منصوبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق اسٹیڈیم اور اولڈ ٹریفورڈ ری جنریشن منصوبہ قانونی اور پارلیمانی فریم ورک کے تحت محفوظ ہے، جس کے باعث قیادت کی تبدیلی سے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق اولڈ ٹریفورڈ کی ترقی کے منصوبے کو میئرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے پارلیمانی منظوری حاصل ہے اور اسے ختم یا تبدیل کرنا آسان نہیں۔
اینڈی برنہم اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ نئے اسٹیڈیم کی تعمیر پر سرکاری خزانے سے ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوگی اور اس کے تمام اخراجات مانچسٹر یونائیٹڈ خود برداشت کرے گا۔ ان کے مطابق منصوبہ مکمل ہونے سے علاقے میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی جبکہ رہائشی منصوبوں اور انفراسٹرکچر میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ اس منصوبے سے مقامی آبادی کو بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچے گا، جس میں ٹرانسپورٹ کے نظام کی بہتری اور ریلوے اسٹیشن کی بحالی جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
کلب انتظامیہ کے مطابق اسٹیڈیم منصوبے پر پسِ منظر میں کام جاری ہے، تاہم اگلا اہم مرحلہ اولڈ ٹریفورڈ کے عقب میں واقع اراضی کے حوالے سے معاہدہ طے کرنا ہے، جو منصوبے کی تکمیل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
فٹبال اور کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مانچسٹر یونائیٹڈ بلکہ پورے علاقے کی معاشی اور شہری ترقی کیلئے ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔
