(تکبیر نیوز—- پاکستان، کراچی)
پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں اپنی مضبوطی کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے انٹربینک مارکیٹ میں مسلسل 177ویں کاروباری روز بھی برتری حاصل کر لی، جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر میں نمایاں اضافے اور ملکی معیشت میں استحکام کے آثار کے باعث روپے کو سہارا ملا۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں ترسیلات زر 33 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ نہ ہونے سے بھی مقامی کرنسی کو فائدہ پہنچا۔
کاروباری دن کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مسلسل دباؤ کا شکار رہا۔ ایک موقع پر امریکی کرنسی کی قدر 24 پیسے کمی کے بعد 278 روپے 12 پیسے تک آ گئی تھی۔
بعد ازاں درآمدی شعبے کی جانب سے طلب میں اضافے کے باعث ڈالر نے کچھ نقصان پورا کیا، تاہم کاروبار کے اختتام پر امریکی کرنسی ایک پیسہ کمی کے ساتھ 278 روپے 35 پیسے پر بند ہوئی۔
دوسری جانب اوپن کرنسی مارکیٹ میں صورتحال مختلف رہی، جہاں ڈالر کی قدر میں مزید 8 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر 279 روپے 57 پیسے کی سطح پر بند ہوا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اثاثوں کی منتقلی آسان بنانے کے حکومتی اقدامات اور برآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر فروخت کرنے کے رجحان نے مارکیٹ میں زرمبادلہ کی فراہمی بہتر بنائی ہے، جس کے باعث روپے کو استحکام حاصل ہو رہا ہے۔
