(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برائٹن) برائٹن کے ساحل پر سمندر میں جان گنوانے والی تین بہنوں کے خاندان نے ایک افسوسناک انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی والدہ بھی برسوں قبل برمنگھم میں ڈوب کر جاں بحق ہوئی تھیں۔
جین ایڈیٹورو، کرسٹینا والٹرز اور ربیکا والٹرز کی لاشیں 13 مئی کی صبح برائٹن کے ساحل سے برآمد ہوئی تھیں۔
خاندان کے مطابق امکان ہے کہ تینوں بہنیں اپنی والدہ جینس ایڈیٹورو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ساحلی علاقے گئی تھیں، جو 2010 میں برمنگھم کے علاقے ایرڈنگٹن میں واقع بروک ویل پارک کی جھیل میں ڈوب کر انتقال کر گئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق جینس ایڈیٹورو ذہنی دباؤ اور ذہنی صحت کے مسائل کا شکار تھیں اور جنوری 2010 میں اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھیں، بعد ازاں ان کی لاش جھیل سے ملی تھی۔
تینوں بہنوں کی پھوپھی اجیکے ایڈیٹورو نے کہا کہ بہنیں اپنی زندگی میں خوش تھیں اور ان کی موت “بالکل غیر متوقع” تھی۔
والد جوزف ایڈیٹورو نے اپنے بیان میں کہا:
“الفاظ اس درد کو بیان نہیں کر سکتے جو اپنی تین بیٹیوں کو کھونے کے بعد محسوس ہو رہا ہے۔”
انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اپنی “خوشی اور طاقت” قرار دیا۔
پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اب تک کسی مجرمانہ کارروائی یا کسی تیسرے شخص کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔
ادھر خاندان کی مدد کیلئے قائم کیے گئے فنڈ ریزر میں تقریباً 30 ہزار پاؤنڈ جمع ہو چکے ہیں تاکہ تینوں بہنوں کی آخری رسومات کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔
برائٹن پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ 12 مئی کی رات 10 بجے سے 13 مئی کی صبح ساڑھے 5 بجے کے درمیان میڈیرا ڈرائیو کے علاقے میں تینوں خواتین کو دیکھنے والے افراد معلومات فراہم کریں۔
