تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں 18 سالہ یونیورسٹی طالب علم ہنری نوواک کے قتل کے بعد سکھ برادری کی ایک بڑی تنظیم نے وزارت داخلہ پر الزام عائد کیا ہے کہ حکومت پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی مبینہ ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے مذہبی خنجر کرپان سے متعلق قوانین کو نشانہ بنا رہی ہے۔ سکھ فیڈریشن یوکے نے حکومتی اقدامات پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے فوری ملاقات کا مطالبہ کردیا ہے۔
یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ہنری نوواک کے قاتل وکرم ڈگوا کی عمر قید کی سزا کی کم از کم مدت اپیل عدالت نے 21 سال سے بڑھا کر 25 سال کردی ہے۔
ہنری نوواک کو 3 دسمبر 2025 کو ساؤتھمپٹن میں چاقو کے وار کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد قاتل نے پولیس کو گمراہ کرتے ہوئے مقتول پر نسلی بدسلوکی کا جھوٹا الزام عائد کیا تھا۔
پولیس اہلکاروں نے شدید زخمی ہنری نوواک کو طبی امداد فراہم کرنے کے بجائے ہتھکڑیاں لگادیں، حالانکہ وہ اس وقت زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھا۔
اس واقعے نے برطانیہ میں پولیس کے طرزِ عمل، مذہبی آزادی اور عوامی مقامات پر چاقو رکھنے سے متعلق قوانین پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار مذہبی کرپان نہیں تھا، سکھ فیڈریشن
سکھ فیڈریشن یوکے نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حکومت ہنری نوواک قتل کیس میں پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کی مبینہ کوتاہیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے سکھ مذہب کے مقدس نشان کرپان کو غیر ضروری طور پر متنازع بنا رہی ہے۔
تنظیم کے سیاسی امور کے چیف ایگزیکٹو دبیندر جیت سنگھ نے کہا کہ قتل میں استعمال ہونے والا ہتھیار مذہبی کرپان نہیں تھا، اس لیے اس واقعے کو سکھ مذہبی روایات سے جوڑنا غلط ہے۔
ان کے مطابق حکومت کو ان ادارہ جاتی ناکامیوں کا جائزہ لینا چاہیے جن کے باعث یہ سانحہ پیش آیا، لیکن اس کے بجائے مذہبی آزادی سے متعلق منفی تاثر پیدا ہونے دیا جارہا ہے۔
سکھ فیڈریشن نے واضح کیا کہ سکھ برادری عوامی تحفظ اور چاقو سے ہونے والے جرائم کے خاتمے کی مکمل حمایت کرتی ہے، تاہم کسی مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر مذہبی علامات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں۔
250 سے زائد گوردواروں کو وزیراعظم سے رابطے کی اپیل
سکھ فیڈریشن نے برطانیہ کے 250 سے زائد گوردواروں سے اپیل کی ہے کہ وہ وزیراعظم اینڈی برنہم کو خطوط لکھ کر اس معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔
تنظیم کے مطابق ہزاروں سکھ شہری بھی اپنے حلقوں کے ارکان پارلیمنٹ سے رابطہ کریں گے اور وزارت داخلہ سے مطالبہ کریں گے کہ مذہبی آزادیوں سے متعلق کسی بھی مجوزہ تبدیلی سے پہلے سکھ نمائندہ اداروں سے باضابطہ مشاورت کی جائے۔
سکھ فیڈریشن نے حکومت سے فوری ملاقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ کرپان سکھ مذہب کا مقدس نشان ہے اور اسے عام مجرمانہ ہتھیاروں کے ساتھ یکساں قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔
قاتل کی کم از کم سزا 21 سے بڑھا کر 25 سال کردی گئی
ہنری نوواک کے قتل کے جرم میں وکرم ڈگوا کو جون 2026 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے تحت اسے کم از کم 21 سال جیل میں گزارنا تھے۔
تاہم جمعرات 5 نومبر کو اپیل عدالت نے ابتدائی سزا کو جرم کی سنگینی کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے کم از کم مدت 25 سال کردی۔
حراست میں پہلے گزارے گئے 175 دن اس مدت میں شمار کیے جائیں گے۔ مجرم کی رہائی 25 سال مکمل ہونے پر بھی خودکار نہیں ہوگی بلکہ متعلقہ حکام اس کی رہائی کے امکان کا جائزہ لیں گے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق قاتل کے پاس ایک چھوٹی مذہبی کرپان کے علاوہ تقریباً 21 سینٹی میٹر لمبا خنجر بھی موجود تھا۔ وہ سکھ مذہب کے نہنگ سلسلے سے تعلق رکھتا تھا، جس کے بعض پیروکار مذہبی روایت کے تحت دوسرا خنجر بھی رکھتے ہیں۔
برطانوی قانون میں عوامی مقامات پر چاقو رکھنے پر عمومی پابندی ہے، تاہم مذہبی مقاصد سمیت بعض مخصوص حالات میں قانونی استثنیٰ موجود ہے۔
مقتول کے والد کا کرپان سے متعلق قانون واضح کرنے کا مطالبہ
مقتول کے والد مارک نوواک نے مطالبہ کیا ہے کہ برطانوی قانون میں مذہبی کرپان کی ساخت، لمبائی، قسم اور اسے ظاہر کرکے رکھنے سے متعلق واضح حدود مقرر کی جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادی کا احترام ضروری ہے، لیکن قانون میں موجود ابہام دور ہونا چاہیے تاکہ پولیس کو معلوم ہو کہ کس نوعیت کا ہتھیار قانونی طور پر رکھا جاسکتا ہے۔
برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی کہا ہے کہ وہ چاقو رکھنے سے متعلق قوانین میں ممکنہ وضاحتوں اور تبدیلیوں پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔
ان کے مطابق حکومت کو مذہبی آزادی کے تحفظ اور عوامی سلامتی کے تقاضوں کے درمیان مناسب توازن قائم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوک نے بھی چاقو سے متعلق قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
تاہم اس معاملے میں ابھی کسی نئے قانون کے نفاذ کا اعلان نہیں ہوا۔
پولیس کے دو اہلکاروں کے خلاف تحقیقات جاری
ہنری نوواک قتل کیس میں پولیس کے کردار پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
برطانیہ میں پولیس شکایات کی تحقیقات کرنے والے آزاد ادارے آئی او پی سی نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے موقع پر موجود دو پولیس اہلکاروں کے خلاف ممکنہ سنگین پیشہ ورانہ بدعنوانی یا فرائض میں غفلت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقات میں یہ جائزہ لیا جارہا ہے کہ آیا پولیس اہلکاروں نے شدید زخمی نوجوان کی فوری طبی امداد کی ضرورت کو نظرانداز کیا اور اسے گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگانے کا فیصلہ کیوں کیا۔
دونوں اہلکاروں کے خلاف ممکنہ بدانتظامی کی تحقیقات کا مطلب یہ نہیں کہ ان پر کوئی الزام ثابت ہوچکا ہے۔
آزاد ادارے کی تحقیقات اگلے سال کے اوائل میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ 26 اکتوبر کو وزارت داخلہ نے قتل سے پہلے مختلف اداروں کی ممکنہ ناکامیوں اور مقتول کے خاندان کے ساتھ سرکاری اداروں کے رویے کا جائزہ لینے کیلئے الگ آزاد تحقیقات کا بھی اعلان کیا تھا۔
اس جائزے کے پہلے مرحلے کی رپورٹ مارچ 2027 تک متوقع ہے۔
ہنری نوواک قتل کیس اب برطانیہ میں صرف ایک سنگین مجرمانہ واقعہ نہیں رہا بلکہ پولیس کی جواب دہی، شہریوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور چاقو سے متعلق قوانین کے مستقبل پر ایک اہم بحث کا مرکز بن چکا ہے۔
