تکبیر نیوز (ویلز): برطانیہ میں چاقو کے بڑھتے جرائم کی روک تھام کے لیے حکومت نے بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا، جس کے تحت ساؤتھ ویلز کے چھ ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں پولیس گشت بڑھانے سمیت متعدد اقدامات کیے جائیں گے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق اس منصوبے کے لیے 26 ملین پاؤنڈ مختص کیے گئے ہیں اور ساؤتھ ویلز پولیس ملک کی ان ابتدائی پولیس فورسز میں شامل ہے جہاں نئے اقدامات پر عمل درآمد شروع کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے تحت ان مقامات کو ترجیح دی جائے گی جہاں پولیس، مقامی کونسلوں اور کمیونٹی اداروں کے مطابق چاقو سے ہونے والے تشدد کا مقامی آبادی پر سب سے زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔
حکام کے مطابق صرف ساؤتھ ویلز ہی نہیں بلکہ انگلینڈ اور ویلز کی 27 پولیس فورسز کے 230 سے زیادہ علاقوں میں مقامی سطح پر تیار کیے گئے ایکشن پلان نافذ کیے جا رہے ہیں۔
ہر علاقے کے حالات کے مطابق الگ حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ اقدامات میں ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں اضافی پولیس گشت، نگرانی کے بہتر انتظامات اور ایسے نوجوانوں کے لیے خصوصی پروگرام شامل ہوں گے جن کے چاقو کے جرائم کا شکار ہونے یا ان میں ملوث ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔
بعض علاقوں میں چاقو اور دیگر ہتھیاروں کی نشاندہی کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ منشیات اور الکحل کے مسائل سے متاثرہ افراد کے لیے معاونت بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
اس کے علاوہ بعض عوامی مقامات پر روشنی کے بہتر انتظامات اور ایسے مقامات کے ڈیزائن میں تبدیلی بھی منصوبے کا حصہ ہوگی جہاں ہتھیار چھپائے جانے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق ساؤتھ ویلز میں چاقو سے متعلق جرائم میں پہلے ہی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جون 2024 سے چاقو سے متعلق جرائم میں مجموعی طور پر 10 فیصد جبکہ چاقو کے استعمال سے ہونے والے سنگین حملوں میں 17 فیصد کمی بتائی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ محدود مگر زیادہ متاثرہ علاقوں پر پولیس اور دیگر اداروں کی مشترکہ توجہ چاقو جرائم میں کمی کے لیے مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
ہوم آفس کے مطابق میٹروپولیٹن پولیس، ویسٹ مڈلینڈز، گریٹر مانچسٹر، ویسٹ یارکشائر، ساؤتھ یارکشائر، ایون اینڈ سمرسیٹ اور برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے علاقوں میں چاقو کے ذریعے ہونے والی ڈکیتیوں میں تقریباً 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو 3,600 سے زیادہ کم واقعات کے برابر ہے۔
ہوم سیکرٹری شبانہ محمود نے کہا کہ ہر شخص کو اپنی کمیونٹی میں محفوظ محسوس کرنے کا حق ہے اور کسی نوجوان کی زندگی چاقو کے جرم سے متاثر نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں پولیس کارروائی اور جرائم کی روک تھام پر بیک وقت توجہ دینے کے طریقہ کار کو اب ملک بھر کے 230 سے زیادہ علاقوں تک وسعت دی جا رہی ہے۔
شبانہ محمود نے 17 ستمبر کو ویسٹ مڈلینڈز کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے چاقو جرائم سے نوجوانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کرنے والے ایک مقامی باکسنگ جم میں مہم چلانے والی ان خواتین سے ملاقات کی جنہوں نے اپنے بچوں کو چاقو کے واقعات میں کھو دیا تھا۔
حکومت کے مطابق نئی حکمت عملی میں صرف قانون نافذ کرنے پر نہیں بلکہ روک تھام، نوجوانوں کی بروقت مدد اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر تشدد کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔
