تکبیر نیوز (سولی ہل): برطانیہ کے علاقے سولی ہل کی 85 سالہ خاتون ڈوروتھی فورڈ کو اپنی حاملہ پڑوسن پر نسلی بنیادوں پر مبینہ حملوں کے مقدمے کا سامنا ہے۔ خاتون نے تمام الزامات سے انکار کیا ہے اور معاملہ برمنگھم کراؤن کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
استغاثہ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2024 کے دوران دونوں پڑوسیوں کے درمیان مشترکہ راہداری کی صفائی کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا، جو بعد میں مبینہ طور پر جسمانی حملوں اور نسلی نوعیت کے الفاظ کے استعمال تک پہنچ گیا۔
حاملہ پڑوسن پر حملے کے الزامات
پراسیکیوٹر جوشوا پرسر نے عدالت کو بتایا کہ مبینہ طور پر پہلا واقعہ 31 جولائی 2024 کو پیش آیا، جب شکایت کنندہ اپنے بچوں کے ساتھ عمارت کی مشترکہ جگہ میں موجود تھیں۔
استغاثہ کا دعویٰ ہے کہ فورڈ نے پڑوسن سے ان کے بچوں اور خاندانی پس منظر سے متعلق نسلی نوعیت کا جملہ کہا اور بعد ازاں ایک چھوٹی پہیوں والی ٹرالی سے انہیں ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ان کی ران پر چوٹ کا نشان پڑا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق شکایت کنندہ اس وقت حاملہ تھیں اور بعد میں ہونے والے دونوں مبینہ واقعات کے دوران بھی حمل کی حالت میں تھیں۔
دوسرے واقعے میں گرم پانی پھینکنے کا الزام
عدالت کو بتایا گیا کہ دوسرا مبینہ واقعہ 11 اگست 2024 کو پیش آیا۔
استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ نے کھڑکی سے مبینہ طور پر انہیں دیکھنے کے معاملے پر محلے کی نگرانی سے متعلق طنزیہ جملہ کہا، جس کے بعد فورڈ پر الزام ہے کہ انہوں نے شکایت کنندہ اور ان کے بچوں پر گرم پانی پھینکا اور نسلی نوعیت کے الفاظ استعمال کیے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت میں ان الزامات کو معاملے میں مبینہ نسلی رویے کی ایک بڑی مثال قرار دیا۔
دروازے کے ذریعے مبینہ طور پر زخمی کرنے کا الزام
تیسرا واقعہ 12 ستمبر 2024 کو پیش آنے کا الزام ہے۔ استغاثہ کے مطابق شکایت کنندہ بچوں کو اسکول سے لے کر واپس آئی تھیں اور اپنے بچے کی گاڑی اندر لے جانے کے لیے دروازہ کھلا رکھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
اسی دوران مبینہ طور پر دروازہ زور سے بند کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں شکایت کنندہ کا بازو دروازے میں پھنس گیا جبکہ ان کا پیٹ بھی دروازے کے فریم سے رگڑ گیا۔
پراسیکیوٹر کے مطابق شکایت کنندہ نے بتایا کہ انہوں نے فورڈ سے کہا کہ انہیں تکلیف ہو رہی ہے، تاہم الزام ہے کہ دروازہ بند کرنے کی کوشش جاری رہی۔
85 سالہ خاتون تمام الزامات سے انکاری
ڈوروتھی فورڈ کو ایک نسلی بنیاد پر سنگین جسمانی نقصان پہنچانے والے حملے اور دو نسلی بنیادوں پر مارپیٹ کے الزامات کا سامنا ہے۔
فورڈ کو گرفتار کرکے پولیس نے ان سے پوچھ گچھ بھی کی، تاہم انہوں نے تمام الزامات مسترد کردیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ نہ کسی حملے کو تسلیم کرتی ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف بیان کیے گئے مبینہ نسلی الفاظ کے استعمال کو مانتی ہیں۔
استغاثہ کے مطابق فورڈ کا مؤقف ہے کہ یہ واقعات اس انداز میں پیش ہی نہیں آئے جس طرح شکایت کنندہ نے عدالت میں بیان کیے ہیں۔
مقدمے کی کارروائی جاری
برمنگھم کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت جاری ہے اور جیوری مزید شواہد سنے گی۔ شکایت کنندہ سمیت دیگر گواہوں کے بیانات بھی عدالت کے سامنے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
عدالت کی جانب سے ابھی مقدمے کا فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ ڈوروتھی فورڈ اس وقت تک قانونی طور پر بے گناہ ہیں جب تک ان کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوجاتے۔
اس مقدمے کا فیصلہ آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ استغاثہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کس حد تک ثابت ہوتے ہیں۔
