(تکبیر نیوز—- برطانیہ، والسال)
برطانیہ کے شہر والسال میں ایک باغیچے کی عمارت کو مکمل رہائشی گھر میں تبدیل کرنے کی درخواست پر آئندہ ہفتے اہم فیصلہ متوقع ہے، جبکہ منصوبہ بندی حکام نے ایک بار پھر اس منصوبے کو مسترد کرنے کی سفارش کر دی ہے۔
یہ درخواست والسال کے علاقے برمنگھم روڈ پر واقع نمبر 255 جائیداد سے متعلق ہے، جہاں موجود ایک آؤٹ بلڈنگ یا باغیچے کی عمارت کو خود مختار رہائشی یونٹ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ والسال کونسل کی پلاننگ کمیٹی 18 جون کو ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر غور کرے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال اسی نوعیت کی ایک درخواست کو منصوبہ بندی افسران نے مسترد کر دیا تھا۔ اس وقت مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ مجوزہ تعمیرات سے علاقے کی ظاہری شناخت متاثر ہوگی، رہائشی سہولیات میں کمی آئے گی اور سائیکل پارکنگ سمیت دیگر سہولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
تازہ درخواست کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی افسران کا کہنا ہے کہ سابقہ اعتراضات دور نہیں کیے گئے، اس لیے منصوبے کو دوبارہ مسترد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بعض تکنیکی تضادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں یہ سوال شامل ہے کہ آیا متعلقہ گیراج سنگل ہے یا ڈبل، اور آیا نئے رہائشی یونٹ کے لیے مختص کھلی جگہ موجودہ رہائشیوں کے ساتھ مشترکہ ہوگی یا نہیں۔
متعلقہ جائیداد کو 2019 میں والسال کونسل کی جانب سے پانچ بیڈ رومز پر مشتمل ہاؤس آف ملٹی پل آکیوپیشن (HMO) کے طور پر منظوری دی گئی تھی، جہاں متعدد افراد رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔
نئے رہائشی یونٹ تک رسائی بروک ہاؤس روڈ نامی نسبتاً پرسکون رہائشی گلی سے حاصل کی جائے گی۔
یہ معاملہ پلاننگ کمیٹی کے سامنے اس وقت لایا جا رہا ہے جب سابق وارڈ کونسلر وحید رساب نے منصوبہ بندی افسران کی مسترد کرنے کی سفارش سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نئے گھروں کی فراہمی کا ایک اچھا موقع ہے اور اس سے علاقے کی سہولیات یا رہائشی ماحول کو کوئی نمایاں نقصان نہیں پہنچے گا۔
وحید رساب نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ والسال کے دیگر علاقوں میں اسی نوعیت کے منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے، لہٰذا اس درخواست پر بھی مثبت غور کیا جانا چاہیے۔
اب تمام نظریں 18 جون کو ہونے والے اجلاس پر ہیں جہاں کونسل کی پلاننگ کمیٹی حتمی فیصلہ کرے گی کہ آیا اس عمارت کو باضابطہ طور پر رہائشی گھر کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
