برطانیہ کے شہر برمنگھم میں پولیس نے نسلی نفرت پھیلانے کے شبہے میں 35 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے ایونٹ سے قبل کی گئی جسے ’اینٹی زائنسٹ موومنٹ‘ کے عنوان سے منعقد کیے جانے کی تشہیر کی گئی تھی۔
West Midlands Police کے مطابق خاتون کو اتوار 8 فروری کو دوپہر تقریباً 2 بج کر 30 منٹ پر کنگز ہیتھ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ لندن سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون مذکورہ ایونٹ میں شرکت کے لیے برمنگھم آ رہی ہے۔
پولیس نے خاتون کی گاڑی کو روکا اور بعد ازاں اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق خاتون میٹروپولیٹن پولیس کو مطلوب تھیں اور ان پر پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ یہ تحقیقات مئی سے اکتوبر کے دوران لندن اور برمنگھم میں کی گئی تقاریر اور سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ہیں۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایونٹ کے منتظمین کے منصوبوں کو سمجھنے کے لیے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایونٹ موزلی کے علاقے میں منعقد ہونے کی تشہیر کی گئی تھی۔
پولیس ترجمان کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی آپریشن نافذ ہے اور پولیس مقامی یہودی کمیونٹی سمیت دیگر متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جا سکے۔
