ہمارے پاس کوئی کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار نہیں ہیں، روس کا امریکا کو جواب

16

روس نے امریکا کی جانب سے کئی روز سے مسلسل لگائے جانے والے الزام کی تردید کی ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ روس یوکرین پر الزام لگا کر خود کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر حکام کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ روس یوکرین میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاری کر رہا ہے۔

روس کے خبر رساں ادارے تاس نے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کے حوالے سے کہا ہے کہ روس کے پاس نہ تو کوئی کیمیائی ہتھیار ہے اور نہ ہی حیاتیاتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حکام بدنیتی پر مبنی باتیں کر رہے ہیں جو ہم سنتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ صدر پیوٹن تنگ گلی میں پھنس گئے ہیں اور اس کے باعث روس کی جانب سے کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں کے استعمال کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ کرنے سے بچنے کے لیے بہانے تراش رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ امریکا نے روس کے برعکس ابھی تک اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو تباہ نہیں کیا ہے، یورپ میں ایسے ہتھیار نہیں ہیں لیکن امریکا کے پاس اب بھی موجود ہیں۔

گزشتہ روز واشنگٹن میں ایک کاروباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ اُنہیں یقین ہے روس نئے فالس فلیگ آپریشنز کی تیاری کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:  امریکا نے ترکیہ کو ایف-16 جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی

صدر جو بائیڈن نے مزید کہا کہ روس کا یہ الزام کہ یوکرین کے پاس کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار ہیں اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ روس اِنہیں یوکرین کے خلاف استعمال کرنے کا سوچ رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.