لندن (تکبیر نیوز یو کے) — برطانیہ میں 24 سالہ پولش خاتون جولیا وانڈلٹ کو عدالت نے مشہور لاپتہ بچی میڈلین میکین کے والدین کو ہراساں کرنے کے جرم میں مجرم قرار دے دیا۔ عدالت نے خاتون کو ہراسمنٹ کے جرم میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی، جو وہ پہلے ہی کاٹ چکی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق، جولیا وانڈلٹ نے 2022 سے 2025 کے دوران میکین فیملی کو متعدد فون کالز، پیغامات اور آن لائن پوسٹس کے ذریعے تنگ کیا۔ وہ خود کو لاپتہ بچی “میڈلین میکین” قرار دیتی تھی، حالانکہ ڈی این اے ٹیسٹ سے واضح ہو گیا کہ اس کا میکین فیملی سے کوئی تعلق نہیں۔
استغاثہ کے مطابق، وانڈلٹ نے کئی بار خاندان سے براہِ راست رابطہ کیا، خطوط بھیجے اور یہاں تک کہ ان کے گھر کے قریب دیکھی گئی۔ عدالت نے اس کے طرزِ عمل کو “مسلسل ہراسمنٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے متاثرہ خاندان کے ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچایا۔
عدالت نے خاتون کے خلاف ایک ریسٹیننگ آرڈر بھی جاری کیا ہے، جس کے تحت وہ آئندہ میکین فیملی سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے گی۔ جج نے کہا کہ اگرچہ ملزمہ کو ذہنی دباؤ اور توجہ کے مسائل لاحق ہیں، مگر یہ کسی بھی صورت میں اس کے رویے کا جواز نہیں۔
میڈلین میکین کے والدین نے بیان میں کہا کہ انہیں اس فیصلے سے کوئی خوشی نہیں، لیکن وہ اس بات پر مطمئن ہیں کہ اب انہیں بار بار ہونے والے ہراس سے نجات ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملزمہ کو نفسیاتی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ دوبارہ کسی اور خاندان کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔
