لندن (تکبیر نیوز یو کے) — دنیا کی جینیاتی سائنس میں انقلاب برپا کرنے والے ممتاز سائنس دان جیمز ڈی واٹسن 97 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ وہی ماہرِ حیاتیات تھے جنہوں نے اپنے ساتھی فرانسس کرک کے ساتھ مل کر ڈی این اے کی دوہری ساخت (Double Helix) دریافت کی تھی، جس نے انسانی جینیات اور حیاتیاتی تحقیق کی بنیاد ہمیشہ کے لیے بدل دی۔
جیمز واٹسن نے 1928 میں شکاگو میں جنم لیا اور کم عمری ہی میں سائنس کی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ صرف 24 سال کی عمر میں، وہ کیمبرج یونیورسٹی میں کرک کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ جینیاتی معلومات ایک خاص دوہری زنجیر کی شکل میں محفوظ ہوتی ہیں — یہی دریافت بعد میں ڈی این اے ڈبل ہیلکس کہلائی۔
ان کی اس تاریخی دریافت پر 1962 میں جیمز واٹسن، فرانسس کرک اور موریس ولکنز کو نوبل انعام برائے طب سے نوازا گیا۔ ان کا کام آج بھی جدید بایوٹیکنالوجی، میڈیکل جینیات، اور انسانی ڈی این اے کے مطالعے کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
اپنی سائنسی خدمات کے باوجود، واٹسن کی زندگی تنازعات سے بھی خالی نہ رہی۔ ان کے کچھ بیانات، جنہیں نسل پرستی اور سماجی اختلافات سے جوڑا گیا، سائنسی حلقوں میں سخت تنقید کا باعث بنے۔ تاہم، ان کی علمی خدمات اس قدر بڑی تھیں کہ وہ ہمیشہ تاریخ میں جینیاتی سائنس کے بانیوں میں شمار ہوں گے۔
دنیا بھر کے سائنس دانوں اور تحقیقی اداروں نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جیمز واٹسن نے انسانی جینیات کو سمجھنے کے دروازے کھول دیے — اور ان کی دریافت نے زندگی کے تصور کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
