لندن (تکبیر نیوز یو کے) — برطانیہ میں پوسٹ آفس اسکینڈل سے متاثرہ افراد کے لیے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی معاوضہ سکیم کو متاثرین کے رہنما سر ایلَن بیٹس نے “نصف تیار” اور “غیر مؤثر” قرار دے دیا ہے۔
سر ایلَن بیٹس، جو برسوں سے پوسٹ آفس سکینڈل کے متاثرین کے لیے انصاف کی مہم چلا رہے ہیں، نے کہا کہ حکومت کی نئی اسکیم میں وہ بنیادی خامیاں برقرار ہیں جو پچھلے معاوضہ پروگرامز میں سامنے آئی تھیں۔
ان کے مطابق، نئے طریقہ کار کے تحت متاثرہ افراد کو پہلے تمام تفصیلات کے ساتھ مکمل درخواست دینا ہوگی، جس کے بعد حکومت فیصلہ کرے گی کہ وہ اہل ہیں یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف سست ہے بلکہ متاثرین کے لیے ذہنی اور مالی دباؤ کا باعث بھی بنے گا۔ ان کے خیال میں سکیم کو دو مرحلوں میں تقسیم ہونا چاہیے تھا — پہلے اہلیت کی تصدیق، اور بعد میں قانونی معاونت کے ساتھ تفصیلی کیس کا عمل۔
سر ایلَن نے مزید کہا کہ وہ خود بھی اس سکیم کے ممکنہ دعویدار ہیں، کیونکہ ان کی سابقہ ڈاک شاخ میں وہ سافٹ ویئر استعمال ہوا تھا جس کی خرابی نے انہیں اور دیگر پوسٹ ماسٹرز کو غلط طور پر ذمہ دار ٹھہرایا۔
دوسری جانب، حکومتی ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ سکیم کے تحت اہل افراد کو ابتدائی طور پر دس ہزار پاؤنڈ تک کی رقم مل سکتی ہے، جبکہ سنگین نوعیت کے کیسز میں آزاد پینل کی جانب سے تین لاکھ پاؤنڈ سے زائد معاوضہ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کو محض مالی تصفیے کے بجائے ایک انسانی المیہ سمجھ کر اس کا حل تلاش کرے۔
