لندن (تکبیر نیوز یو کے) — شمالی لندن کی ایک ذہنی صحت کی نگرانی کرنے والی یونٹ میں نوجوان مریضہ کی موت کے سلسلے میں ایک ایفسانہ اب عدالتی کارروائی میں سامنے آیا ہے، جہاں ایک بڑی صحت کی ٹرسٹ اور اس وارڈ کی منیجر کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
اس کیس کا رشتہ دار وقت سے پرانا ہے — 22 سالہ المیہ آرنسہ دار مریضہ Alice Figueiredo نے جولائی 2015 میں سنجیدہ ذہنی مسائل کی حالت میں ایک محفوظ وارڈ میں اپنی زندگی ختم کر لی تھی۔ معتوبہ یونٹ کے زیر انتظام ادارے North East London NHS Foundation Trust اور وارڈ منیجر Benjamin Aninakwa کو یہ ثابت کرنا پڑا کہ انہوں نے اس کی خودکشی روکنے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا۔
عدالتی جج نے کہا کہ ان کی “صحت و سلامتی کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی” انتہائی سنگین تھی؛ مقدمے کی سماعت انگلش قانونی تاریخ میں اب تک کی سب سے طویل مدت کے بعد ہوئی۔
الفائس کی والدہ نے اظہارِ خیال کیا کہ انہیں یہ شدتِ تکلیف دہ لگا کہ ان کی بیٹی اس کی دیکھ بھال کے لیے بنائے گئے وارڈ میں محفوظ نہ رہ سکی۔ اس نے کہا: “یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے نوجوان مریضوں کی حفاظت کو عام بات سمجھا جا رہا ہے — یہ قبول کرنا ناقابلِ قبول ہے۔”
ٹرسٹ نے اپنے بیان میں معذرت کی اور کہا کہ “ہم اس واقعے سے بے حد افسردہ ہیں، اور مریضوں کی نگہداشت، تحفظ اور فلاح کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدامات اٹھا چکے ہیں”۔
مگر خاندان کا کہنا ہے کہ سچائی کے بعد بھی مکمل بندش ممکن نہیں، کیونکہ ایک فرزند کا گھر سے بچھڑنا زندگی بھر کا زخم ہے۔
یو کے ذہنی صحت یونٹ میں نوجوان مریضہ کی موت — ٹرسٹ و منیجر کو ذمہ دار ٹھہرا گیا
102