– شیخ  محمد بن زاید سے اردن اور مصر کے وزراء اعظم کی ملاقات، صنعتی شراکت داری پر تبادلہ خیال

32

 

صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید آل نھیان سےاردن کے وزیر اعظم بشیر الخاسونے اور مصر کے وزیر اعظم مصطفیٰ مدبولی نے ابوظبی میں ملاقات کی۔

دونوں ملکوں کے وزراء اعظم اس وقت متحدہ عرب امارات، اردن اور مصر کے درمیان "پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعتی شراکت داری” پر دستخط کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں۔ اسکی تفصیلات کا اعلان آج (اتوار) کو کیا جائے گا۔

قصر الشاطی میں ہونے والی ملاقات کے دوران عزت مآب شیخ محمد بن زاید نے اردن اور مصر کے وزرائے اعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو مبارکباد کا پیغام دیا۔ انہوں نے اردن اور مصر کی ترقی اور خوشحالی کی دعا کی۔

متحدہ عرب امارات کے صدر نے پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے صنعتی شراکت داری کو سراہا اور اس بات پرزور دیا کہ یہ تینوں ملکوں کے عوام کے فائدے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

شیخ محمد بن زاید نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث عرب خطے کے ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری بڑھانے، انکے درمیان تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے، ان کے انضمام کو بڑھانے اورپائیدار ترقی کے حصول کے لیے ہر ملک کے معیاری فوائد کی سرمایہ کاری مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ چیلنجوں اور عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنےاور قومی سلامتی سے متعلق اہم شعبوں جیسے خوراک، صحت، توانائی، صنعت اور دیگر میں خود انحصاری بڑھانے کیلئے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں:  عرب امارات: رمضان کی آمد پر 1 ہزار 25 قیدیوں کی رہائی کا حکم

دونوں وزراء اعظم نے شیخ محمد بن زاید کو اردن کے بادشاہ اور مصرکے صدر کی جانب سے مبارکباد اور اچھی صحت کے لیے نیک تمناؤں کے پیغام پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ صنعتی شراکت داری کے خواہاں ہیں۔

ملاقات میں زاید چیریٹبل اینڈ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین شیخ نھیان بن زاید آل نھیان ، نائب وزیراعظم اور صدارتی امور کے وزیر شیخ منصور بن زاید آل نھیان؛ شیخ طیب بن زاید آل نھیان؛ وزیر صنعت اور جدید ٹیکنالوجی ڈاکٹر سلطان بن احمد الجابر؛ متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش اور ابوظہبی احتساب اتھارٹی کے چیئرمین حمید عبید ابوشبس بھی موجود تھے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.