یوکرین میں روس کی کارروائی کی مذمت کریں: یورپین یونین کا پاکستان کو پیغام

32

پاکستان نے تنازع کے حل کے لیے سفارتکاری پر زور دیا ہے۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

یورپین یونین میں شامل ممالک کے نمائندوں نے پاکستان زور دیا ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرے اور بین الاقوامی قوانین کی نفاذ کے لیے ان کا ساتھ دے۔
یورپین یونین پاکستان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق یہ مشترکہ درخواست پاکستان میں موجود 22 ممالک کے مشنز کے سربراہوں کی جانب سے کی گئی ہے۔
یورپین یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مشنز کے سربراہوں کی حیثیت سے ہم پاکستان سے اصرار کرتے ہیں کہ روس کی کارروائی کی مذمت اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کے بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی حمایت اور اسے برقرار رکھنے میں ہمارا ساتھ دے۔‘
خیال رہے گذشتہ ہفتے جمعرات کو روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین میں ’سپیشل ملٹری آپریشن‘ کا اعلان کیا تھا اور دونوں اطراف کی افواج کی جھڑپوں میں اب تک دونوں ممالک کے متعدد فوجی اور سویلین ہلاک ہوچکے ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین پر حملوں میں کمی کا کوئی عندیہ نہیں دیا جبکہ دوسری جانب عالمی سطح پر اس کی سیاسی و اقتصادی تنہائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکہ اور اتحادی ممالک نے روس کو معاشی طور پر سزا دینے کے لیے صدر پوتن سمیت اہم شخصیات اور کاروباری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
خیال رہے کہ دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد سے یوکرین پر حملہ کسی بھی یورپی ریاست پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ ہے۔
واضح رہے پاکستانی وزیراعظم عمران خان وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے اعلان کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی تھی۔
دوسری جانب پاکستان نے یوکرین کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے پر زور دیا ہے۔
بعد ازاں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے یوکرینی ہم منصب دمیترو کلابہ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تھی جس پر انہوں نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اتوار کو وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر خارجہ نے تفصیل سے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرنے کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور سفارت کاری سے کام لینے پر زور دیا۔‘
بیان کے مطابق ’وزیر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے روس کے دورے کے دوران روس اور یوکرین کے درمیان پیدا ہونے والی صرتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو امید تھی کہ سفارتکاری جنگ کو ٹال سکتی ہے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور ترقی پذیر ہمیشہ معاشی طور پر سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
وزیر خارجہ کا یوکرینی ہم منصب کو کہنا تھا کہ ’پاکستان کو یقین ہے کہ مسائل گفتگو اور سفارتکاری کے ذریعے حل ہونے چاہییں۔‘

مزید پڑھیں:  موت کا ڈر، یوکرینی ماں نے بچی کے جسم پر خاندانی معلومات لکھ دیں
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.