وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ عمران خان کا زاتی ملازم بننے سے گریز کرے، نیر بخاری

38

نیر بخاری نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ عمران خان کا زاتی ملازم بننے سے گریز کرے۔

سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقتدار کا سہارا اور اختیار کا نشہ چھن جانے سے عمران خان زہنی مریض کی لاعلاج حد تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان  اسلام آباد سے پشاور بھاگ کرنان کسٹم پیڈ گاڑی کی مانند ہے جو اٹک سے پار نہیں آسکتی۔

سید نیر حسین بخاری نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کی سرکاری افسران کو بار بار دھمکیاں قانونی طور پر قابل گرفت ہیں۔

سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پہلی تاریخی ناکامی اب دوسری اسٹریٹجی کے دعویدار عمران خان کی سیٹی گم ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کا فورس کے ساتھ اسلام آباد آنے کا اعلان جتھہ حملہ آوری کے زمرے میں آتا ہے۔

سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی سید نیر حسین بخاری نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ پی ٹی آئی چیئرمین کا زاتی ملازم بننے سے گریز کرے اور   شہریوں کو ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے باز رہے۔

واضح رہے اس سے قبل چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس قوم کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے، آپ نے ملک بچانے کو جہاد سمجھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جمہوریت کی اخلاقیات ہوتی ہیں، پاکستان میں سب حکومتیں کرپشن کے الزامات کے تحت گئیں، ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس پر کرپشن کا کوئی الزام  نہیں۔

مزید پڑھیں:  عمران خان کی بیٹوں سے بات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو توہین عدالت کا نوٹس

عمران خان نے کہا کہ 2022 میں ملک کی گروتھ 6 فیصد تھی، ہماری حکومت میں ایکسپورٹ ریکارڈ پر گئیں، کورونا کے حوالے سے سب سے بہتر اقدامات  ہم نے کیے، کورونا کے بعد سب سے زیادہ روزگار ہماری حکومت نے دے۔

 چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ جومراسلہ امریکا سے آیا اس میں واضح طور پر دھمکی دی گئی ہے، پاکستان کورونا کے خلاف اقدامات کرنے میں ٹاپ 5 ملکوں میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ کبھی پاکستان کی سڑکوں پر اس طرح عوام  نہیں نکلی، ڈونلڈ دھمکی دیتا ہے، عمران خان کو نہیں ہٹاؤ گے تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ایک سازش کے تحت پی ٹی آئی کی حکومت گرائی گئی۔

 عمران خان نے کہا کہ آج ہم کھڑے نہ ہوئے توآئندہ نسلیں معاف نہیں کریں گی، 62 سال پاکستان ملٹری ڈکٹیشن اور2 خاندانوں کے ہاتھوں میں چلا ہے، میرا دور حکومت صرف ساڑھے3سال چلا ہے، 62 سال پاکستان 2 خاندانوں کے ہاتھوں میں چلا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.