برطانیہ میں ویسٹ یارکشائر پولیس کے ایک سابق افسر کو اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کمزور خواتین کا استحصال کرنے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
42 سالہ پیٹرک بینکس کو شیفیلڈ کراؤن کورٹ نے سزا سنائی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ لیڈز میں بطور ڈیٹیکٹو کانسٹیبل خدمات انجام دے رہا تھا اور پولیس کے سیف گارڈنگ یونٹ میں تعینات تھا جہاں گھریلو تشدد اور جنسی جرائم کے متاثرین کے کیسز کی تفتیش کی جاتی ہے۔
عدالت کے مطابق بینکس نے 2024 اور 2025 کے دوران دو کمزور خواتین کو نشانہ بنایا جو پہلے ہی جنسی جرائم کی شکایات لے کر پولیس کے پاس آئی تھیں۔ جج جیریمی رچرڈسن نے کہا کہ ملزم نے بطور پولیس افسر اس پر کیے گئے اعتماد کو “بری طرح مجروح” کیا اور اپنے اختیارات کا “گھناونا غلط استعمال” کیا۔
متاثرہ خواتین کے ساتھ رویہ
عدالت میں بتایا گیا کہ پہلی خاتون نے جولائی 2024 میں لیڈز میں ایک جنسی حملے کی رپورٹ درج کروائی تھی۔ کیس کی تفتیش کے دوران ملزم نے اس خاتون کو ذاتی واٹس ایپ پیغامات بھیجے اور ڈیوٹی سے ہٹ کر اس سے ملاقاتیں کرتا رہا۔
دوسری خاتون ایک سنگل مدر تھی جو گھریلو تشدد اور جنسی حملے کا شکار رہی تھی اور انگریزی زبان بھی محدود جانتی تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم نے اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھایا، اس کے بچوں کے لیے چھوٹے تحائف لایا اور بعد میں نامناسب پیغامات کے ذریعے اسے ہراساں کیا۔
عدالت کے مطابق ملزم نے خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی بھی کی، جس میں اس نے اس کے جسم کو نامناسب انداز میں چھوا اور اسے بوسہ دینے کی کوشش کی۔
تحقیقات اور سزا
واقعے کی شکایت اپریل 2025 میں سامنے آئی جس کے بعد پولیس نے ملزم کو فوری طور پر معطل کر کے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں اس نے دو الزامات اختیارات کے ناجائز استعمال اور ایک الزام جنسی زیادتی کا اعتراف کیا۔
عدالت نے اسے تین سال قید کی سزا سنائی جبکہ ملزم کو جنسی مجرموں کی فہرست میں بھی شامل کر دیا گیا ہے اور اسے متاثرہ خواتین سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
پولیس کا مؤقف
ویسٹ یارکشائر پولیس کی ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ تانیا ولکنز نے کہا کہ سابق افسر کے اقدامات انتہائی شرمناک اور ناقابل قبول ہیں اور ایسے افراد کے لیے پولیس فورس میں کوئی جگہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کیس سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ اگر کوئی افسر بھی قانون توڑتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
