برطانیہ کے شہر ڈربی میں ایک خاتون کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کے مقدمے میں 64 سالہ تھامس ٹرنر کو عدالت نے مجرم قرار دے دیا ہے۔ ملزم نے اپنی دوست مینڈی رائلی کو اس وقت قتل کر دیا جب اس نے اسے رقم دینے سے انکار کر دیا تھا۔
پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 4 جون گزشتہ سال ڈربی میں واقع ہیریئٹ ٹب مین ہاؤس میں پیش آیا۔ اس دوران تھامس ٹرنر اور 47 سالہ مینڈی رائلی ایک ساتھ شراب نوشی اور سگریٹ نوشی کر رہے تھے جب ملزم نے خاتون سے رقم مانگی۔ انکار پر وہ مشتعل ہو گیا اور اس نے خاتون کی گردن پر 11 بار چاقو سے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزم نے خاتون کا ہینڈ بیگ کھولا اور اس میں موجود رقم لے کر شراب اور منشیات خریدنے کے لیے استعمال کی۔ بعد ازاں اس نے شواہد مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ڈنکن روڈ پر ایک دوست کے گھر جا کر اپنے کپڑے واشنگ مشین میں دھوئے اور خاموشی سے وہاں سے چلا گیا۔
لاش کی برآمدگی اور تفتیش
مینڈی رائلی کی لاش 5 جون کو اس وقت برآمد ہوئی جب ایک دوست نے طبی ملاقات کے لیے رابطہ نہ ہونے پر گھر آ کر دیکھا۔ پولیس نے اسی روز تھامس ٹرنر کو قتل کے شبہ میں گرفتار کر لیا۔
حراست کے دوران ملزم نے پولیس کے سوالات کے جواب دینے سے انکار کیا، تاہم فرانزک شواہد نے کیس کو مضبوط بنا دیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کے پرس پر ملزم کا ڈی این اے ملا جبکہ مقتولہ کا ایک مخصوص کریک پائپ بھی ملزم کے سامان میں برآمد ہوا۔
عدالت کا فیصلہ
مقدمہ لوفبرو کراؤن کورٹ میں زیر سماعت رہا جہاں ملزم نے قتل کے الزام سے انکار کیا، تاہم 2 اپریل کو جیوری نے اسے قتل کا مجرم قرار دے دیا۔
ملزم کو 21 اپریل کو لنکن کراؤن کورٹ میں سزا سنائی جائے گی جہاں اسے عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پولیس کا مؤقف
تفتیش کی سربراہی کرنے والی ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر لورا سینڈرز نے کہا کہ مینڈی رائلی کو اس جگہ قتل کیا گیا جہاں اسے سب سے زیادہ محفوظ محسوس ہونا چاہیے تھا اور قاتل وہ شخص تھا جس پر وہ اعتماد کرتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ملزم نے قتل کے بعد مقتولہ سے رقم بھی چرائی اور اسے اپنی شراب اور منشیات کی عادت پوری کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق شواہد نے ملزم کے تمام انکار کو غلط ثابت کر دیا۔
