ہٹیاں بالا / جہلم ویلی (تکبیر نیوز)— رپورٹ: مبارک حسین اعوان۔ — آزاد جموں و کشمیر کی علمی، دینی اور فکری دنیا ایک عظیم شخصیت سے محروم ہو گئی۔ جمعیت علمائے اسلام آزاد جموں و کشمیر کے سرپرست اعلیٰ، ممتاز عالم دین، خطیب، مدرس اور سماجی و سیاسی رہنما مولانا پروفیسر الطاف حسین صدیقی طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
مولانا الطاف حسین صدیقی کا تعلق ضلع جہلم ویلی، ہٹیاں بالا کے نواحی گاؤں لسدار سے تھا۔ وہ کئی ماہ سے علیل تھے مگر بیماری کے باوجود عبادت، تلاوت قرآن پاک اور ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے اور حق و صداقت کا پیغام دیتے رہے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی جہلم ویلی سمیت پورے آزاد کشمیر، پاکستان اور بیرون ملک مقیم ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
مولانا الطاف حسین صدیقی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ جمعیت علمائے اسلام آزاد جموں و کشمیر کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے دینی، سماجی اور سیاسی میدان میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ 2021 کے عام انتخابات میں انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے حلقہ نمبر 6 سے بطور امیدوار حصہ لیا اور بھرپور انتخابی مہم کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کیا۔ ان کی سیاست کا محور اقتدار نہیں بلکہ دین کی سربلندی اور معاشرے کی اصلاح تھا۔
دینی خدمات کے میدان میں وہ جامعہ تعلیم القرآن للبنین والبنات ہٹیاں بالا کے مہتمم رہے۔ ان کے زیر سایہ ہزاروں طلبہ و طالبات نے تعلیم حاصل کی اور آج مختلف علاقوں میں دین کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک مؤثر خطیب بھی تھے، جن کی تقاریر میں خلوص، اثر اور اتحادِ امت کا پیغام نمایاں ہوتا تھا۔
مسئلہ کشمیر پر ان کا مؤقف واضح اور دوٹوک تھا۔ وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حامی تھے اور اپنی تقاریر میں عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ مقامی سطح پر بھی وہ ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے اور سماجی اصلاح کے لیے سرگرم رہتے تھے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کی دینی و سیاسی قیادت، علمائے کرام، سماجی شخصیات اور عوامی حلقوں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہیں ایک نڈر، اصول پسند اور مخلص رہنما قرار دیتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔ آمین۔
