دیارِ غیر میں رمضان کی آمد — ایمان، امتحان اور اتحاد
✍ تحریر: محبوب احمد شفقت کمبوہ
برطانیہ کی سرد فضا میں ایک روحانی گرمی اترنے والی ہے۔ گلیوں میں شاید روشنیوں کا شور نہ ہو، مگر دلوں میں ایک خاموش تیاری شروع ہو چکی ہے۔ رمضان شریف کی آمد صرف ایک مذہبی مہینہ نہیں، بلکہ ایمان کی تجدید، کردار کی تعمیر اور کمیونٹی کے اتحاد کا پیغام لے کر آتی ہے۔
دیارِ غیر میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے رمضان کا مفہوم کچھ مختلف بھی ہے اور کچھ زیادہ گہرا بھی۔ یہاں دفاتر چلتے رہتے ہیں، اسکول کھلے رہتے ہیں، امتحانات ہوتے ہیں، اور معمولات زندگی اپنی رفتار سے جاری رہتے ہیں۔ ایسے میں روزہ رکھنا محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط، صبر اور عملی ایمان کا امتحان بن جاتا ہے۔
برمنگھم، لندن اور مانچسٹر جیسے شہروں میں مساجد کی رونقیں بڑھنے لگتی ہیں۔ افطار کے اجتماعی پروگرام کمیونٹی کو قریب لاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم رمضان کو صرف عبادات تک محدود کر دیتے ہیں یا اسے سماجی اصلاح کا ذریعہ بھی بناتے ہیں؟
برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے یہ مہینہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ کیا ہمارے نوجوان مسجد سے جڑ رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کو رمضان کی اصل روح سمجھا پا رہے ہیں یا وہ اسے صرف افطار پارٹیوں اور سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود دیکھ رہے ہیں؟
رمضان ہمیں مساوات سکھاتا ہے۔ امیر و غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن کیا ہم اپنی کمیونٹی کے اندر موجود ضرورت مند خاندانوں کا خیال رکھتے ہیں؟ برطانیہ میں مہنگائی، بلوں کا دباؤ، اور معاشی مشکلات نے کئی گھرانوں کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں زکوٰۃ اور صدقات کی حقیقی روح کو زندہ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلاموفوبیا کے ماحول میں رمضان مسلمانوں کی شناخت کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ روزہ دار طالب علم یا ملازم کو بعض اوقات سوالات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ہمیں اپنے نوجوانوں کو اعتماد دینا ہوگا کہ وہ اپنی مذہبی شناخت پر فخر کریں، نہ کہ احساسِ کمتری کا شکار ہوں۔
رمضان صرف عبادت کا مہینہ نہیں — یہ تربیت کا مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے کے بعد بھی ہمارے کردار میں تبدیلی نہ آئے، ہمارے گھروں میں برداشت نہ بڑھے، اور ہماری کمیونٹی میں اتحاد مضبوط نہ ہو، تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے رمضان سے کیا سیکھا۔
دیارِ غیر میں رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم جہاں بھی ہوں، اپنی روحانی جڑوں سے جڑے رہ سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ رمضان آ رہا ہے — سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟
