برطانیہ کی وزیرِ خارجہ یوویٹ کوپر نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ سوڈان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی مظالم کے حوالے سے نئی پابندیاں (Sanctions) متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر جنگ بندی کے لیے کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔
کوپر نے برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا:
"میں نے اپنے حکام کو ہدایت دی ہے کہ سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں پر ممکنہ پابندیوں کے مسودے تیار کریں۔”
سوڈان کی صورتحال — جنگ، تباہی اور انسانی بحران
سوڈان میں یہ تباہ کن تنازعہ 2023 میں اس وقت شروع ہوا جب سوڈانی افواج (SAF) اور نیم فوجی گروہ ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے درمیان طاقت کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔
گزشتہ ہفتے الفاشر — جو ملک کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے — پر RSF کے قبضے نے بڑے پیمانے پر قتل و غارت کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ:
-
دونوں فریق پچھلے کئی مہینوں میں
ڈرون حملوں پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں -
ہزاروں شہری محصور
-
انسانی امداد کی رسائی شدید متاثر
️ "دنیا نے سوڈان کو بہت دیر تک نظر انداز کیا” — کوپر
یوویٹ کوپر نے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"عالمی دنیا نے بہت زیادہ عرصہ سوڈان سے منہ پھیرے رکھا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ممکن ہے عالمی ٹیموں کو سوڈان میں بھیجنا پڑے تاکہ:
-
جنگی جرائم اور مظالم کی تحقیقات ہو سکیں
-
ذمہ دار عناصر کو جوابدہ بنایا جا سکے
⚖️ پچھلے سال بھی برطانیہ نے پابندیاں لگائی تھیں
گزشتہ سال برطانیہ نے تین کاروباری اداروں پر پابندیاں لگائی تھیں:
-
Alkhaleej Bank
-
Al-Fakher Advanced Works
-
Red Rock Mining
برطانیہ کے مطابق یہ کمپنیاں ان فوجی گروہوں کو فنڈنگ فراہم کر رہی تھیں جو موجودہ سوڈانی جنگ میں ملوث ہیں۔
