سوڈان کے فوجی سربراہ نے ملک میں ہنگامی حالت کے خاتمے کا اعلان کر دیا

23

سوڈان میں گزشتہ روز ہنگامی حالت کے خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے جسے گزشتہ برس اکتوبر میں فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر مکمل گرفت حاصل کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔

سوڈان کی عبوری خود مختار کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس حوالے سے فوجی سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے تاکہ ایک نتیجہ خیز اور بامعنی بات چیت کے لیے ایسا ماحول تیار کیا جائے جس سے عبوری دور میں سویلین حکمرانی کے لیے استحکام حاصل کیا جا سکے۔

ایمرجنسی ختم کرنے کا یہ فیصلہ اعلیٰ فوجی حکام کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد سامنے آیا جس میں سفارش کی گئی ہے کہ ہنگامی قانون کے تحت حراست میں لیے گئے لوگوں کو بھی رہا کیا جائے۔

اس دوران ہفتے کے روز دارالحکومت خرطوم میں فوج نے بغاوت مخالف مظاہرین کے خلاف ایک اور پرتشدد کریک ڈاؤن کیا جس میں دو افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ فوج نے سینکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سوڈان ڈاکٹرز سینٹرل کمیٹی (سی سی ایس ڈی) کے مطابق ایک شخص کو فوج نے گولی ماری جبکہ دوسرا شخص آنسو گیس کے سبب دم گھٹنے سے ہلاک ہوا۔ واضح رہے کہ سی سی ایس ڈی بھی جمہوریت حامی تحریک کا حصہ ہے۔

سوڈان میں اقوام متحدہ کے ایلچی وولکر پرتھیس نے بھی مظاہرین کے خلاف فوج کے کریک ڈاؤن کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ خرطوم میں دو مظاہرین کی پرتشدد ہلاکت سے کافی پریشان ہیں، وقت آ گیا ہے کہ سوڈان کے موجودہ بحران کا پرامن حل نکالا جائے۔

مزید پڑھیں:  پی آئی اے کو 9 ماہ میں 67 ارب روپے کا نقصان

واضح رہے کہ سوڈان کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے اور فوجی بغاوت کے بعد بین الاقوامی امداد میں کافی کمی واقع ہونے سے ملک کو شدید معاشی بدحالی کا سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.