نیٹو کا نیا نظریہ سلامتی جاری، روس اور چین براہِ راست خطرہ قرار

12

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے روس اور چین کو براہِ راست خطرہ قرار دے دیا۔

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے روس اور چین کو براہِ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ نئے نظریہ سلامتی کے تحت اتحاد کو سب سے زیادہ اور براہِ راست خطرہ روس سے ہے جبکہ چین کی توسیع پسندانہ اور جابرانہ پالیسیاں بھی نیٹو کے مفادات،سلامتی اور اقدار کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔

اسپین دارالحکومت میڈرڈ میں نیٹو سمٹ کے دوران مغربی دفاعی اتحاد کے رکن ممالک نے یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں اپنا نیا نظریہ سلامتی جاری کر دیا۔ اس سمٹ کے دوران نیٹو کی جانب سے مشرقی یورپ میں اس اتحاد کے فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان بھی کیا گیا۔

نیا نظریہ سلامتی کیا ہے ؟

“اس دستاویز کے مطابق نیٹو اب روس کو اپنے ایک اسٹریٹیجک پارٹنر کے طور پر نہیں دیکھتا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ نیٹو روس کے ساتھ کوئی تنازعہ بھی نہیں چاہتا اور نہ ہی نیٹو روس کے لیے کوئی خطرہ ہے۔

چین کے متعلق کہا گیا ہے چین وسیع پیمانے پر سیاسی، اقتصادی اور عسکری سرگرمیوں کے ذریعے اپنی طاقت کا اظہار کرتا ہے”

 

واضح رہے، نیٹو کی جانب سے چین سے متعلق موقف کو باقاعدہ پالیسی کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس پالیسی میں کہا گیا ہے کہ چین کے توسیع پسندانہ عزائم نیٹو کی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔نیٹو کے رکن ممالک نے اس نئی پالیسی پر میڈرڈ سمٹ کے دوران دستخط کیے۔  نیٹو اسی پالیسی کے تحت آئندہ برسوں کے لیے اپنے اہداف اور سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرے گا۔ اس اتحاد نے آخری مرتبہ اپنی ایسی پالیسی 2010ء میں ترتیب دی تھی۔

مزید پڑھیں:  آئی ٹو یو ٹو کا قیام، کیا عالمی سیاست میں وفاداریاں پھر بدلنے کو ہیں ؟

سنگین سیکیورٹی بحران

نیٹو سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کا کہنا ہے کہ میڈرڈ میں نیٹو اتحادیوں کی سمٹ ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہے کہ جب اس اتحاد کے رکن ممالک کو دوسری عالمی جنگ کے بعد کے سب سے سنگین سکیورٹی بحران کا سامنا ہے۔

 

 

 

یوکرین پر روسی فوجی حملے نے یورپ میں شدید نوعیت کے سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ نیٹو کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں مشرقی یورپ میں ہتھیار اور فوجی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب، یوکرین کے صدر زیلینسکی نے ایک ویڈیو لنک کے ذریعے نیٹو رکن ممالک کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو نے اس جنگ زدہ ملک کا مکمل اور کھل کر ساتھ نہیں دیا۔ زیلنسکی نے روسی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ہتھیاروں کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.