جرمنی میں جی 7 اجلاس کا انعقاد، عالمگیریت مخالف سماجی تنظیموں کا احتجاج

40

جی سیون ممالک کا سالانہ اجلاس آج بروز اتوار 26 جون سے جرمن صوبے باویریا کے پُرفضا پہاڑی مقام ایلماؤ میں شروع ہو رہا ہے۔

دنیا کی سات بڑی اقتصای طاقتوں کے گروپ جی سیون کا اجلاس ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ اس وقت جی سیون گروپ کی صدارت جرمنی کر رہا ہے اسی لیے اس 48 ویں اجلاس کا انعقاد جرمن صوبے باویریا میں ہو رہا ہے۔ اس مرتبہ روس يوکرين جنگ، ماحولیاتی تبديلياں، توانائی اور عالمی اقتصادی بحران، سیاسی بے چینی، مختلف خطوں میں بڑھتی ہوئی غربت اور عدم استحکام جیسے مسائل اجلاس پر چھائے رہنے کی امید ہے۔

صنعتی طور پر ترقی يافتہ ممالک امریکا، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان کے گروپ جی سيون کے سربراہان مملکت ہفتے کے روز سے باویریا کے دارالحکومت ميونخ پہنچنا شروع ہو گئے جہاں وہ ايلپس کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں ايلماؤ کے مقام پر آج سے منگل تک جاری رہنے والے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ہفتے کے روز سے ہی  کئی سماجی تنظیمیں اور گروپ اس اجلاس کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں جن میں ہزاروں مظاہرين شریک ہیں۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے ليے ایلماؤ میں اٹھارہ ہزار پوليس اہلکار تعينات کيے گئے ہيں۔

ان مظاہرین کے مطالبات میں فوسل فیول یا قدرتی ایندھن کے استعمال کے خاتمے سے لے کر جانوروں اور پودوں کے تنوع کے تحفظ، سماجی انصاف، بھوک اور غربت کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:  میانمار میں فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک

گزشتہ روز بھی میونخ میں انسداد غربت کے لیے کام کرنے والی تنظیم آکسفیم نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے جی سیون ممالک سے بھوک، عدم مساوات اور غربت کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ منگل کو اسپین کے شہر میڈرڈ میں نیٹو کے 30 رکن ممالک کے رہنما سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے جو جمعرات تک جاری رہے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.