پیرس کردوں اور پولیس میں جھڑپیں، متعدد زخمی

گزشتہ روز فائرنگ میں 3 افراد کی ہلاکت کے بعد سے احتجاج جاری

43

پیرس میں مظاہروں کے روایتی مقام ری پبلک اسکوائر کے قریب متعدد کاریں الٹا دی گئیں اور مظاہرین نے جگہ جگہ آگ لگا دی، اسی جگہ کردوں نے پہلے پُرامن احتجاج کیا تھا۔جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب بعض مظاہرین جمہوریہ چوک چھوڑ کر چلے گئے اور انہوں نے پولیس کی جانب آتش گیر مواد پھینکا، اس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ایک مسلح شخص نے جمعہ کو پیرس کے 10ویں ضلع کے ایک مصروف حصے میں کرد ثقافتی مرکز اور قریبی کیفے میں فائرنگ کرکے 3 افراد کو قتل کردیا تھا۔پولیس نے ایک 69 سالہ شخص کو کردوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ اسے حال ہی میں حراست سے رہا کیا گیا تھا، اس کے خلاف ایک سال قبل پیرس میں تارکین وطن کے ایک کیمپ پر حملے کا مقدمہ چلایا جارہا ہے

مزید پڑھیں:  میرا اوڑھنا بچھونا ایم کیو ایم ہے، خالد مقبول اِرد گِرد نظر رکھیں، فاروق ستار
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.