امریکی سینٹ کا ہتھیاروں کی روک تھام کے قانون کی جانب پہلا قدم

15

امریکی سینیٹ نے کئی دہائیوں بعد ملک میں ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے قانون منظور کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق گزشتہ روز امریکی سینیٹرز نے ہتھیار رکھنے کے قانون (گن لاز) کو سخت کرنے کے اقدامات کی فوری منظوری کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد توقع ہے کہ دو ہفتے کی چھٹیوں سے قبل رواں ہفتے سینیٹ 80 صفحات پر مشتمل بل پر ووٹنگ کرے گی۔

قانون سازی میں ایسی دفعات شامل ہیں جن سے ریاستوں کو ان لوگوں کی پہنچ سے ہتھیار دور رکھنے میں مدد ملے گی جو اپنے یا دوسروں کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔ قانون سازی کے تحت ریاست ہتھیاروں کی خریداری کے لیے نوعمر افراد کا ریکارڈ فراہم کرنے کی مجاز ہو گی جبکہ خودکار ہتھیاروں کی خریداری کے لیے عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 21 کر دی گئی ہے۔

سینیٹر کرس مرفی جو رپبلکنز کے ساتھ قانون سازی کے معاہدے کے لیے مذاکرات میں سرکردہ ڈیموکریٹ رہنما ہیں، نے دو طرفہ پیش رفت کو اس قانون سازی کا سب سے اہم حصہ قرار دیا ہے جس کی کانگریس 30 برسوں میں منظوری دے گی۔

سینیٹر جان کارنین جو دو طرفہ بات چیت میں رپبلکن پارٹی کی قیادت کر رہے تھے، نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ قانون سازی کامیاب ہو گی۔ سینیٹ میں رپبلکن رہنما مچ میک کونل نے اس قانون سازی کو ایک کامن سینس پیکج قرار دیا اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ واضح رہے کہ اس قانون کی منظوری کے لیے کم از کم 10 رپبلکن سینیٹرز کی حمایت درکار ہوگی۔

مزید پڑھیں:  نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کے آپس کے گلے شکوے دور کرادیے

دوسری جانب امریکا کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے اس قانون سازی کی مخالفت کی ہے جس کے مطابق اس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ قانونی اسلحے کی خریداری کو محدود کیا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.