بھارت، صدارتی منصب کے لیے یشونت سنہا مضبوط امیدوار قرار

17

بھارت کے اگلے صدر کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے  کانگریس رہنما اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا نام تقریباً طے کرلیا ہے صرف رسمی اعلان باقی ہے۔

یشونت سنہا نے مقامی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وسیع تر اپوزیشن اتحاد کے لیے کام کرنے کے مقصد سے وہ اپنی پارٹی ترنمول کانگریس سے مستعفی ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی صدر ممتا بینرجی کو بھیج دیا ہے۔

یشونت سنہا نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ممتا جی نے ترنمول کانگریس میں مجھے جو عزت اور احترام دیا اس کے لیے میں ان کا انتہائی ممنون ہوں۔ اب وقت  ہے کہ میں ایک زیادہ وسیع قومی مقصد کے لیے کام کروں اور مجھے اب ایک وسیع تر اپوزیشن اتحاد کے لیے کام کرنے کے خاطر پارٹی سے الگ ہو جانا چاہیے۔

واضح رہے، مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی نے اپوزیشن کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کی پیش کش مسترد کر دی تھی۔ اس سے قبل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ اور سابق مرکزی وزیر شرد پوار اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی صدارتی الیکشن میں اپوزیشن کی جانب سے ممکنہ امیدوار بننے سے خود کو الگ ہی رکھنے کا اعلان کر دیا تھا۔

 

یاد رہے، موجودہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے عہدے کی مدت 25 جولائی کو پوری ہو رہی ہے۔

علاواہ ازیں، 84 سالہ یشونت سنہا ایک سابق بھارتی بیوروکریٹ ہیں۔ انہوں نے 1960 میں انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس جوائن کی اور 24 برس تک مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیتے رہے۔ 1984میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر اس وقت کی جنتا دل پارٹی میں شامل ہو گئے تھے اور اس کے آل انڈیا جنرل سیکرٹری بھی بنا دیے گئے تھے۔ اسی پارٹی کی طرف سے وہ 1988ء میں پارلیمانی ایوان بالا راجیہ سبھا پہنچے تھے۔

مزید پڑھیں:  پاکستانی تاریخ کا دردناک دن، سانحہ اے پی ایس پشاور کو 8 سال بیت گئے

1996میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اس کے قومی ترجمان بنائے گئے۔ 1998میں وزیر خزانہ اور سن 2002ء میں وزیر خارجہ بھی بنایا گیا۔مغربی بنگال میں سن 2021ء میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل وہ ریاست میں حکمران جماعت ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔ انہیں پارٹی کا نائب صدر بنایا گیا۔ بی جے پی چھوڑنے کے بعد یشونت سنہا مودی حکومت کی پالیسیوں کے سخت مخالف رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکمران جماعت بی جے پی کے امیدوار کے نیا ملکی صدر منتخب ہو جانے میں کوئی خاص رکاوٹ نہیں ہو گی۔ بی جے پی کے پاس 49 فیصد ووٹ ہیں۔ بھارت میں عہدہ صدارت کے لیے مجموعی ووٹوں کا 51 فیصد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ صدر کے انتخاب میں اراکین پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے اراکین حصہ لیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.