نیدرلینڈز نے صدیوں تک انسانوں کو غلام بنانے پر معافی مانگ لی

نوآبادیاتی دور کی نسل پرستی، غلامی اور لوٹ مار پر معافی مانگتے ہیں، وزیراعظم

51

نیدرلینڈز کے وزیراعظم نے ایک تقریر کے دوران کہا کہ نیدرلینڈز کے غلامی کو بڑھاوا دینے کے تاریخی کردار اور آج تک موجود اثرات پر ہم معافی مانگتے ہیں، اس کی وجہ ملک کے اس نو آبادیاتی نظام کے دوران غلامی، نسل پرستی اور لوٹ مار کا اعتراف کرنا ہے۔واضح رہے کہ معافی کے دائرے میں نیدرلینڈز کی روایتی قزاقی اور نسل پرستی بھی آئے گی، جس کا نیدرلینڈز (سابقہ ہالینڈ) میں مسلسل سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری رہا ہے۔وزیر اعظم کی طرف سے معافی مانگنے کے امکان کے بارے میں ہیگ میں موجود انسانی حقوق کی آواز بلند کرنیوالے سیاسی گروپ کہتے ہیں کہ قزاقیت کے اصل ذمہ دار شاہی ادارے ہیں اس لئے معافی بھی بادشاہ الیگزینڈر ولیم کو مانگنی چاہئے۔
بادشاہت کو ذمہ دار ٹھہرانے والے سیاسی گروپوں کا کہنا ہے کہ بادشاہ ولیم الیگزینڈر کو ولندیزی تسلط کے خاتمے کی 160 ویں سالگرہ کے موقع پر یکم جولائی 2023ء کو معافی مانگنی چاہئے۔آنر اینڈ ریکوری نامی تنظیم کے ذمہ دار روئے کائیکوسی گرونبرگ نے بھی کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ آبائی طور پر غلام رہنے والوں اور اب غلامی کیخلاف کام کرنیوالے کارکنوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں:  دیکھنا ہوگا ارشد شریف کو پاکستان سے کیوں جانا پڑا، ڈی جی آئی ایس پی آر
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.