نیٹو سربراہ کی روس یوکرین جنگ کئی برسوں تک جاری رہنے کی پیشنگوئی

14

نیٹو چیف جینز اسٹولٹن برگ نے خبردار کیا ہے کہ روس یوکرین کی جنگ اگلے کئی برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی کمیشن کی جانب سے یوکرین کو یورپی یونین کے امیدوار کا درجہ دینے کی تجویز کے بعد روس نے یوکرین پر حملے تیز کر دی ہیں۔

جینز اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ ہمیں اس حقیقت کے لیے تیاری کرنی چاہیے کہ اس جنگ میں برسوں لگ سکتے ہیں، ہمیں یوکرین کی حمایت میں دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔چاہے اخراجات زیادہ ہوں، نہ صرف فوجی امداد کے لیے بلکہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیشِ نظر بھی ہمیں پوری تیاری رکھنا ہوگی۔

اس تناظر میں بورس جانسن نے برطانوی جریدے میں اپنی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یوکرین کو حملہ آور کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ہتھیار، ساز و سامان، گولہ بارود اور تربیت مل رہی ہو۔

انھوں نے مزید لکھا کہ وقت ایک اہم عنصر ہے، ہر چیز کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یوکرین اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کی صلاحیت کو روس کی جانب سے حملہ کرنے کی صلاحیت سے زیادہ تیزی سے مضبوط بنا سکتا ہے یا نہیں۔

واضح رہے، یوکرین پر روسی حملے تیز ہو گئے ہیں، یوکرینی فوج نے بتایا کہ صنعتی شہر سیویروڈونٹسک کو ایک بار پھر بھاری گولہ باری اور راکٹ فائر کا سامنا کرنا پڑا۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف وار کے تجزیہ کاروں نے لکھا کہ روسی افواج ممکنہ طور پر آئندہ ہفتوں میں سیویروڈونٹسک پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی تاہم، اس کے لیے انہیں اس چھوٹے سے علاقے میں اپنی زیادہ تر دستیاب افواج کو وقف کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں:  کیا آپ بھی وائی فائی کی سست رفتار سے پریشان ہیں؟ رفتار تیز کرنے کے 3 آسان طریقے جانیں

لوہانسک کے گورنر سرہی گائیڈائی نے یوکرین کے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا  ہے کہ تمام روسی دعوے جھوٹے ہیں کہ وہ قصبے پر کنٹرول کرچکے ہیں، وہ قصبے کے مرکزی حصے پر کنٹرول کرچکے ہیں لیکن پورے قصبے پر نہیں۔

“یوکرینی ہتھیار ڈال رہے ہیں”

دوسری جانب، روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس نے روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے لیے کام کرنے والے ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میٹولکائن میں بہت سے یوکرینی جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

 

یوکرینی حکام نے بتایا کہ روسی میزائل نے شمال مغرب میں ضلع ایزیم میں ایک گیس ورکس کو نشانہ بنایا اور دوسرے سب سے بڑے شہر خارکیف کے ایک مضافاتی علاقے پر برسنے والے روسی راکٹ میونسپل کی عمارت سے ٹکرا گئے، جس سے آگ لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

علاوہ ازیں، یوکرینی صدر زیلینسکی نے کہا کہ وہ سب ڈٹے ہوئے ہیں،  سب کو ہماری جیت پر کوئی شبہ نہیں ہے، ہم اپنی زمین کسی کے حوالے نہیں ہونے دیں گے اور جو کچھ ہمارا ہے وہ واپس لے لیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.