عامرلیاقت کےپوسٹ مارٹم کے فیصلہ پربشریٰ اقبال کا سوال

سابقہ اہلیہ نے اپنی ٹویٹس میں ایک سوال اٹھایاہے

14

مذہبی رہنمااورپی ٹی آئی کے منحرف رکن جمعرات 9 جون کوکراچی میں انتقال کرگئے تھے.کراچی سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے شہری کی جانب سے دائرکردہ درخواست پرہفتہ 18 جون ک ڈاکٹرعامرلیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا فیصلہ سنایا تھا۔ درخواست گزارکا موقف تھا کہ عامر لیاقت معروف ٹی وی میزبان اور سیاست دان تھے، ان کے مداحوں میں اچانک انتقال کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، شبہ ہے کہ انہیں جائیداد کے تنازع پرقتل کیا گیا ہے لہذاٰ پوسٹ مارٹم کیلئے خصوصی بورڈ تشکیل دیا جائے۔عامرلیاقت کے بچوں نے ان کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کیا تھا اور اب ان کی پہلی سابقہ اہلیہ ڈاکٹربشریٰ اقبال نے بھی اس حوالے سے ٹویٹس میں اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے مداحوں کے سامنے سوال رکھاہے کہ کیا وہ اس حق میں ہیں کہ عامرلیاقت کی روح کو اذیت پہنچائی جائےبشریٰ کی جانب سے معاملے پرآوازاٹھانے کے بعد معروف شخصیات نے بھی اس حوالے سے ردعمل میں پوسٹ مارٹم کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔اداکارہ اشنا شاہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ انہیں دنیا سے جانے کے بعد تو سکون سے رہنے دیں،قبرکشائی ان کے بچوں کو مزید اذیت دے گی جو پہلے ہی کافی مشکلات سے گزر چکے ہیں۔وسیم بادامی نے عدالتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ پوسٹ مارٹم کے بغیرعامرلیاقت کی تدفین بھی مجسٹریٹ کے حکم پرہی کی گئی تھی، برائے مہربانی ان کے بچوں کو مزید تکلیف نہ دیں ۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے صرف 10 فیصد امکانات ہیں،اسحاق ڈار
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.