سیٹھ عابد کی بیٹی کا قتل،ملزم درزی کی بیٹی سے شادی کرناچاہتا تھا،ملازمہ کا بیان

دونوں کی دوستی فیس بک سے ہوئی تھی

74

زیرِحراست ملازمہ عطیہ نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرادیا جس میں بتایا گیا کہ سیٹھ عابد کی بیٹی کا لےپالک بیٹا فہد کوٹ لکھپت میں ایک درزی کی لڑکی کو پسند کرتا تھا اور ان دونوں کی دوستی فیس بک سے ہوئی تھی۔پولیس نے بتایا ہے کہ کیس کے مبینہ مرکزی ملزم فہد کے ساتھ گرفتاردیگر ملازمین کے کردار بھی سامنے آگئے ہیں۔گھریلو ملازمہ عطیہ نے قتل کےبعد خون آلود بیڈ کی چادریں تبدیل کیں جبکہ دیگر ملازم عابداورشاہد نے قتل میں استعمال ہونے والے اسلحہ کوچھپایا۔ملازم روح الامین نے ملزم فہد کے ساتھ مقتولہ کوبیڈ سےاٹھا کراسپتال پہنچایا۔
پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کیوں کہ ملازمین نے شواہد کو مٹایا،اس لئے ان کو گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ واردات کے بعد ملزم نے ماں کے قتل کو خودکشی کا رنگ دينے کی کوشش کی، تاہم فرح مظہر کے دوسرے لےپالک بیٹے نے شبہ ظاہر کیا کہ والدہ کا قتل ان کے دوسرے بیٹے(فہد) نے کیا۔پوليس کے مطابق ابتدائی طور پر مقتولہ کے لے پالک بیٹے فہد اور 3 ملزمان کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ فہد نے ہی اپنی ماں کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔پوليس نے گھريلو ملازمہ رضيہ کو بھی گرفتار کرليا، جب کہ ايک اور گھريلو ملازم رمضان بھی پولیس کی زير حراست ہے۔واضح رہے کہ پچھلے ہفتے لاہور کے علاقے مسلم ٹاؤن ميں فائرنگ کرکے معمر خاتون کو قتل کرديا گيا تھا، اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی تو انکشاف ہوا کہ قتل ہونے والی 62 سالہ فرح مظہر معروف کاروباری شخصيت سيٹھ عابد مرحوم کی بيٹی تھيں اور مقتولہ کے شوہر بیرون ملک مقیم ہیں۔پوليس نے واقعے سے متعلق مقتولہ کے لےپالک بيٹے اور ان کے 3 ملازمین کو حراست ميں لے کر شامل تفتيش کرلیا، فرح مظہر کے گھر سے پستول بھی ملا۔پولیس کے مطابق مقتولہ کی بیٹی اپنی والدہ کو سسرال لے کر گئی تھی جہاں ان کے بیٹے نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی والدہ نے خودکشی کرلی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے مسلم ٹاؤن میں سیٹھ عابد مرحوم کی بیٹی کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ ملزمان کی جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے اور اس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں۔حمزہ شہباز نے ہدایت کی کہ مقتولہ کے لواحقین کو ہر صورت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مزید پڑھیں:  روس نے جرمنی کو گیس کی سپلائی روک دی
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.