شام، روس پر امریکی و اتحادی افواج کے خلاف کارروائیوں کا الزام

26

امریکی فوجی حکام نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی افواج نے رواں ماہ شام میں امریکی قیادت میں قائم عالمی فوجی اتحاد کے خلاف کئی کارروائیاں کیں۔ یوکرین پر روسی حملے اور یوکرینی افواج کو مسلح کرنے کی امریکی کوششوں کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی کافی تناؤ ہے۔

بُدھ کے روز روس نے جنوب مشرقی شام میں اردن کے ساتھ شامی سرحد کے قریب التنف بیرکوں پر فضائی حملے کیے جہاں امریکی افواج داعش کو دوبارہ سر اُٹھانے سے روکنے کے لیے مقامی جنگجوؤں کی تربیت اور رہنمائی کا مشن انجام دے رہی ہیں۔

شام کی بشارالاسد حکومت کے قریبی حلیف روس نے ایک کمیونیکیشن لائن کے ذریعے امریکا کو مطلع کیا تھا کہ وہ شامی افواج کے خلاف مبینہ حملے کے جواب میں فضائی حملے شروع کر رہا ہے۔ ایک امریکی فوجی اہلکار نے بتایا کہ روسی لڑاکا طیاروں نے، جن میں دو ایس یُو 35 ایس اور ایک ایس یُو 24 شامل تھے، التنف کے علاقے سے گزرتے ہوئے اتحادی فوج کی بیرکوں پر بمباری کی۔ روسی فضائیہ فعال طور پر امریکی افواج کو نشانہ نہیں بنا رہی تھی بلکہ ان کا مقصد ہراساں کرنا تھا۔

حملوں کے وقت امریکی یا اتحادی فوجی دستے بیس کے قریب نہیں تھے اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ایک امریکی فوجی اہلکار نے اس کارروائی کو اشتعال انگیزی میں نمایاں اضافہ قرار دیا۔ شام کے علاقے التنف میں 200 کے قریب امریکی اور اتحادی فوجی تعینات ہیں جو داعش کی سرکوبی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:  حالیہ سیلاب میں پاڑہ ہرنوں کی بڑی تعداد بہنے کا انکشاف

اس ہفتے بھی روس کے دو ایس یُو 34 لڑاکا طیاروں نے شمال مشرقی شام میں اس مقام پر پرواز کی جہاں امریکی افواج داعش کے ارکان کو پکڑنے کے لیے چھاپا مار رہی تھیں۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق جب امریکی ایف 16 طیاروں نے روسی طیاروں کو تنبیہ کی تو وہ واپس چلے گئے۔

شام میں تقریباً 900 امریکی فوجی موجود ہیں۔ امریکی افواج التنف کے علاوہ ملک کے مشرقی حصے میں شامی کرد فوجیوں کو تربیت دیتی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.