مقبوضہ وکشمیر؛ 300 اسکولوں کی بندش کے باعث ہزاروں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

11

مقبوضہ وکشمیر؛ 300 اسکولوں کی بندش کے باعث ہزاروں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

مقبوضہ وکشمیر؛ 300 اسکولوں کی بندش کے باعث ہزاروں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑگیا

سری نگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں فلاح عام ٹرسٹ سے وابستہ اسکولوں کی بندش کے باعث  ہزاروں کشمیری طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ضلع بڈگام میں نویں جماعت کے 14 سالہ طالب علم کو جو انجینئر بننے کے خواب دیکھ رہا ہے، اب اپنا مستقبل غیر یقینی نظرآ رہا ہے۔

وہ بڈگام کے ایک سیکنڈری اسکول کے ان 600 طلباء اور اساتذہ میں سے ایک ہے جو پریشان ہے کہ کہیں ان کا اسکول ماضی میں فلاح عام ٹرسٹ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے بند تو نہیں ہو جائے گا جو مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوتوا آر ایس ایس (بی جے پی) حکومت کے ایک نئے کریک ڈان کی زد میں آیا ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بہت سے دوسرے اسکولوں کی طرح اس اسکول کو بھی فلاح عام ٹرسٹ سے الگ کر دیا گیا ہے اور2017 میں دوبارہ رجسٹر کرکے مقامی کمیونٹی مینجمنٹ نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے لیکن اطلاعات کے مطابق سیکنڈری اسکول ضلع بڈگام میں ان 20 اسکولوں میں شامل ہے جو بند ہوسکتا ہے۔

مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے محکمہ تعلیم کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اگلے 15 دنوں کے اندر ان اسکولوں کو بند کریں۔

یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان اسکولوں کا تعلق سب سے بڑی سماجی، مذہبی اور سیاسی تنظیم جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیرسے ہے۔

مزید پڑھیں:  عمران خان کا دوران حراست تشدد کے واقعات پر چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ

سری نگر میں مینجمنٹ کے ایک آفیسر نے صحافیوں کو بتایا کہ بڈگام کا سیکنڈری اسکول 400 طلباء کو بورڈنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے جن میں سے اکثر غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

جو لوگ فیس ادائیگی کے متحمل ہوسکتے ہیں ان سے ٹیوشن اور بورڈنگ کی ماہانہ فیس صرف 2500 روپے وصول کی جاتی ہے۔

اسکول ٹیچر سلیم صدیق نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم ریاستی تعلیمی بورڈ کے وضع کردہ اور منظور شدہ نصاب پڑھاتے ہیں۔ پانچویں جماعت تک ہم کیمبرج سیریز پڑھاتے ہیں جو کہ بہت جدید ہے اور جدید دور سے ہم آہنگ ہے۔

واضح رہے کہ تمام اضلاع کے چیف ایجوکیشن افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر ان اسکولوں کو بند کریں اور طلبا ء کو سرکاری اسکولوں میں منتقل کریں۔

فلاح عام ٹرسٹ نے کہا کہ صرف سات اسکول اس سے براہ راست وابستہ ہیں۔ ٹرسٹ نے کسی بھی تخریبی یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے الزامات کی بھی تردید کی ہے۔

فلاح عام ٹرسٹ کے ڈائریکٹر شوکت احمد وار نے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہم پر پابندی کیوں لگائی گئی۔ ہم صرف حکومت سے منظور شدہ نصاب پڑھاتے ہیں اور حکومت کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں۔

حریت رہنماؤں سمیت سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں نے مودی حکومت کے اس طرح کے ظالمانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.