تکبیر نیوز (لندن): ایک خاتون کو مسلسل جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے اور ایک کم عمر بچے کے ساتھ ظلم کرنے والے 32 سالہ سرجیو چیریاک کو عدالت نے 20 سال قید کی سزا سنادی ہے۔
سرجیو چیریاک کو رواں سال فروری میں انر لندن کراؤن کورٹ نے ریپ کے 12 جرائم، جسمانی نقصان پہنچانے اور بچے کے ساتھ ظلم سمیت مختلف جرائم میں مجرم قرار دیا تھا۔
جمعہ کو عدالت نے اسے 20 سال قید کی سزا سنائی، جس کے بعد اسے مزید چار سال لائسنس پر نگرانی میں گزارنا ہوں گے۔
زخمی حالت میں رشتہ دار کے گھر پہنچی خاتون
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق 31 مارچ 2025 کو متاثرہ خاتون شدید زخمی حالت میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر پہنچی، جس کے بعد رشتہ دار نے میٹروپولیٹن پولیس سے رابطہ کیا۔
پولیس افسران جب چیریاک کی رہائش گاہ پر پہنچے تو انہیں وہاں بدنظمی اور ایک کمرے میں خون کے واضح نشانات ملے۔
تحقیقات میں سامنے آیا کہ چیریاک نے خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسے گھر سے باہر جانے سے روکا اور چاقو دکھا کر دھمکیاں دیں۔
پولیس نے اسے فوری طور پر گرفتار کرلیا اور اس پر جسمانی نقصان پہنچانے، املاک کو نقصان پہنچانے اور بچے پر حملے سمیت مختلف الزامات عائد کیے گئے، جس کے بعد اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔
خاتون نے مزید واقعات سے پردہ اٹھایا
بعد ازاں متاثرہ خاتون نے پولیس کو مزید واقعات کے بارے میں بتایا، جن میں ریپ کے واقعات بھی شامل تھے۔
ان معلومات اور مزید تحقیقات کے بعد چیریاک کے خلاف ستمبر 2025 میں مزید الزامات عائد کیے گئے۔
مقدمے کی سماعت کے بعد انر لندن کراؤن کورٹ نے اسے ریپ کے 12 جرائم سمیت جسمانی تشدد اور بچے کے ساتھ ظلم کے جرائم میں مجرم قرار دیا۔
پولیس نے متاثرہ خاتون کی ہمت کو سراہا
میٹروپولیٹن پولیس کی تحقیقات کی قیادت کرنے والی ڈیٹیکٹو کانسٹیبل ایزی گلینول نے چیریاک کو خطرناک شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلسل تشدد اور جنسی استحصال کا ذمہ دار تھا۔
انہوں نے متاثرہ خاتون کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے سامنے آکر پولیس تحقیقات میں تعاون کیا اور انتہائی مشکل حالات کے باوجود مقدمے کو انجام تک پہنچانے میں مدد دی۔
متاثرہ خاتون نے بھی مقدمے کے بعد ملنے والی مدد پر پولیس، نظامِ انصاف، این ایچ ایس اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔
خاتون کا کہنا تھا کہ اسے ملنے والی مدد توقع سے کہیں زیادہ تھی اور اب وہ خود کو حقیقی طور پر پُرسکون اور خوش محسوس کرتی ہے۔
