تکبیر نیوز (ریاض): سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی فورسز کو بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سے پیچھے دھکیلنے اور انتہائی اہم آبی گزرگاہ باب المندب کا کنٹرول واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
رائٹرز نے معاملے سے واقف چھ علاقائی اور مغربی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ کارروائی آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہوسکتی ہے، تاہم اس کے آغاز کی حتمی تاریخ طے ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔ سعودی اور یمنی حکومتوں سمیت حوثیوں اور امریکی فوج نے رپورٹ سامنے آنے تک ان مبینہ منصوبوں پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق زمینی کارروائی سعودی عرب کی نگرانی میں یمنی فورسز انجام دیں گی، جبکہ سعودی فضائیہ انہیں فضائی مدد فراہم کرسکتی ہے۔
آپریشن کے حجم کے لحاظ سے ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجیوں کو متحرک کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
دو مختلف فوجی منصوبوں پر غور
رپورٹ کے مطابق ریاض کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے زیر غور ہیں۔
ایک منصوبے کے تحت کارروائی کو باب المندب اور اس کے قریبی ساحلی علاقے تک محدود رکھا جاسکتا ہے، جبکہ دوسرے منصوبے میں حوثیوں کے خلاف کئی محاذوں پر وسیع زمینی کارروائی شامل ہوسکتی ہے۔
امریکا پہلے ہی سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معاونت فراہم کر رہا ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق امریکی اور دیگر اتحادی افواج سے مجوزہ زمینی لڑائی میں براہ راست شریک ہونے کی توقع نہیں ہے۔
باب المندب کی اہمیت کیوں بڑھ گئی؟
باب المندب بحیرہ احمر کے جنوبی سرے پر واقع دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی اور اس اہم آبی راستے پر ان کے کنٹرول نے علاقائی اور عالمی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت کے لیے اس علاقے پر حوثی کنٹرول مستقبل کی کسی بھی سیاسی بات چیت میں ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے۔
یمن میں لڑائی کے ساتھ انسانی بحران بھی سنگین
ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب یمن پہلے ہی شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق یمن میں 18.3 ملین افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر 22 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔
حالیہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ 49 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ قابل رسائی علاقوں میں کیے گئے جائزے کے مطابق 74 فیصد گھرانے اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
یمن اپنی تقریباً 90 فیصد خوراک درآمد کرتا ہے، اس لیے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف لڑائی میں مزید شدت سے رسد اور خوراک کی دستیابی مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی عرب کیلئے مشکل فوجی امتحان
حوثیوں کے خلاف کسی بھی بڑے آپریشن کو ایک پیچیدہ فوجی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں بھی اتحادی ممالک کے ساتھ یمن میں فوجی مداخلت کی تھی، تاہم طویل جنگ کے باوجود حوثیوں کو مکمل طور پر شکست نہیں دی جاسکی۔
موجودہ منصوبے کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ، کارروائی کا دائرہ اور آغاز کا وقت ابھی واضح نہیں ہے۔ رائٹرز کے مطابق مختلف ذرائع نے ممکنہ آغاز کے لیے ایک ہفتے سے لے کر نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد تک مختلف اوقات بتائے ہیں۔
