تکبیر نیوز (شیفیلڈ): چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ ایک مسیحی تحریک کی قیادت کے دوران اپنے مذہبی اور روحانی مقام کا فائدہ اٹھا کر خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے والے 69 سالہ سابق پادری کرسٹوفر برین کو ریپ اور دیگر جنسی جرائم میں مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔
کرسٹوفر برین نے 1986 سے 1995 تک شیفیلڈ میں قائم مسیحی تحریک نائن او کلاک سروس (NOS) کی قیادت کی تھی۔ استغاثہ کے مطابق یہ تحریک بظاہر ایک ترقی پسند مذہبی گروپ کے طور پر سامنے آئی، لیکن بعد میں ایک بند اور کنٹرول شدہ گروہ بن گئی جس پر برین کا غلبہ تھا۔
جمعہ کو عدالتی کارروائی کے دوران برین کو ریپ کے ایک اور جنسی حملے کے چار الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔
اس سے قبل گزشتہ سال اگست میں انر لندن کراؤن کورٹ میں ایک علیحدہ مقدمے میں اسے نو خواتین کے خلاف نازیبا حملوں کے 17 جرائم میں مجرم قرار دیا جاچکا تھا۔
دونوں مقدمات کے فیصلوں کو ملا کر برین اب 13 خواتین کے خلاف مجموعی طور پر 22 جنسی جرائم میں مجرم قرار پایا ہے۔
مذہبی حیثیت کے ناجائز استعمال کا الزام
استغاثہ کے وکیل ٹم کلارک کے سی کے مطابق برین نے پہلے ایک رہنما اور بعد میں باقاعدہ پادری کی حیثیت سے حاصل ہونے والے اعتماد اور اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنی جماعت سے وابستہ متعدد خواتین کو جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ برین خواتین کو ان کے دوستوں اور خاندانوں سے الگ کرتا، ان کے مالی معاملات پر کنٹرول محدود کرتا اور انہیں اپنی توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلے کی کیفیت میں رکھتا تھا۔
برین نے اپنی دیکھ بھال کے لیے خواتین پر مشتمل ایک مخصوص ٹیم بھی قائم کی تھی جسے ہوم بیس ٹیم کہا جاتا تھا۔
استغاثہ کے مطابق خواتین کو بتدریج ایسے ماحول میں لایا گیا جہاں وہ برین پر جذباتی اور مالی طور پر منحصر ہوتی چلی گئیں۔
خاتون کو گھر بلا کر ریپ کرنے کا مقدمہ
دوبارہ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ برین نے ایک خاتون کو اپنے گھر بلایا، اسے وہسکی پلائی اور بعد ازاں گھر کے بالائی کمرے میں اس کا ریپ کیا۔
ایک دوسری خاتون، جو برین کی ہوم بیس ٹیم کا حصہ تھیں، نے عدالت کو بتایا کہ ان پر اشتعال انگیز لباس پہننے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا تھا۔
برین نے اپنے دفاع میں تسلیم کیا تھا کہ اس کے اپنی بعض پیروکار خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات رہے، تاہم اس کا مؤقف تھا کہ یہ تعلقات باہمی رضامندی سے قائم ہوئے تھے۔
’خوف اور انحصار کا ماحول بنایا گیا‘
کراؤن پراسیکیوشن سروس یارکشائر اینڈ ہمبرسائیڈ کی سینئر پراسیکیوٹر جولی موس نے کہا کہ برین نے خود کو ایک روحانی رہنما اور لوگوں کی رہنمائی کرنے والے مذہبی شخص کے طور پر پیش کیا، لیکن پس پردہ وہ اپنی جماعت کی متعدد نوجوان خواتین کا مسلسل استحصال کر رہا تھا۔
ان کے مطابق متاثرہ خواتین کو اپنے پیاروں سے الگ کیا گیا، انہیں گروپ پر مالی اور جذباتی طور پر منحصر بنایا گیا اور ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ برین کی جنسی پیش قدمی کی مزاحمت کو ان کی اپنی ذاتی یا روحانی خامی سمجھا جانے لگا۔
جولی موس نے اسے رضامندی کے بجائے برین کی جانب سے پیدا کیے گئے خوف اور انحصار کے ماحول کے نتیجے میں جبری اطاعت قرار دیا۔
انہوں نے عدالت میں شواہد دینے والی خواتین کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی ملزم کو مجرم قرار دلوانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
سزا بعد میں سنائی جائے گی
کرسٹوفر برین نے 1995 میں اپنے طرزِ عمل سے متعلق الزامات سامنے آنے کے بعد پادری کی حیثیت سے کام چھوڑ دیا تھا۔
اب اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے جبکہ سزا کا اعلان بعد کی تاریخ میں کیا جائے گا۔
