توانائی کے بحران میں شدت، سری لنکا میں اسکولز و دفاتر کو تالے لگ گئے

14

ایندھن کی عدم فراہمی کے سبب سری لنکن حکام نے سرکاری دفاتر اور سکولوں کو دو ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پبلک ایڈمنسٹریشن کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کم پبلک ٹرانسپورٹ اور پرائیویٹ گاڑیوں کا بندوبست کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ملازمین کی تعداد میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

سری لنکا کو اس وقت بدترین معاشی و توانائی بحران کا سامنا ہے۔بدقسمت ملک گذشتہ سال کے آخر سے مناسب مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے اناج، ادویات اور ایندھن درآمد کرنے سے قاصر ہے۔

وزارت تعلیم کے مطابق سکولوں کی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ پیر سے دو ہفتوں کے لیے (سکول) بند رکھیں اور اگر طلبہ اور اساتذہ کو بجلی کی سہولت میسر ہو تو آن لائن کلاسز کو یقینی بنائیں۔

یاد رہے، اقوام متحدہ نے جزیرے کے معاشی بحران پر ہنگامی ردعمل دیتے ہوئے ہزاروں حاملہ خواتین کو کھانا کھلایا جنہیں خوراک کی کمی کا سامنا تھا۔

اس تناظر میں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں پانچ میں سے چار لوگوں نے کھانا چھوڑنا شروع کر دیا ہے کیونکہ وہ اس کے متحمل نہیں ہیں۔

 اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سری لنکا کو سنگین انسانی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:  عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفتیش کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کانوٹیفکیشن جاری
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.