روس یوکرین جنگ، امریکہ نے چینی کردار پر انگلی اٹھادی

14

امریکہ نے یوکرین کو مزید ایک ارب ڈالر فوجی امداد کی مد میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف چین نے روس کو اس کے سلامتی خدشات کے حوالے سے حمایت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بیجنگ یوکرین جنگ میں تاریخ کے غلط رخ پر موجود ہے۔

روس کی جانب سے مشرقی ڈونباس علاقے پر حملے کے درمیان امریکہ نے یوکرین کو مزید ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس تناظر میں وائٹ ہاوس کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی جس کے بعد صدر بائیڈن نے یوکرین کے لیے مزید امداد کا اعلان کیا۔

 ان کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن نے زیلنسکی ٹیلیفونک رابطر کے دوران کہنا تھا کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا کیونکہ وہ بلا اشتعال روسی جارحیت کے خلاف اپنی جمہوریت کا دفاع کررہا ہے اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کر رہا ہے۔

جان کربی کے مطابق یوکرینی صدر نے صدر بائیڈن کو میدان جنگ اور زمینی صورت حال کے حوالے سے اپ ڈیٹ بھی کیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جانب سے مزید ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد کے تحت یوکرین کو 155ملی میٹر ہوائٹزر اور ان کے لیے 30 ہزار راؤنڈ، گولہ بارود، زمینی ہارپون اینٹی شپ میزائل سسٹم اور راکٹ آرٹیلری سسٹم کے لیے اضافی راکٹ دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:  پنجاب میں پولیس سٹیشنز، آن لائن اور ایپ کے ذریعے لرننگ ڈرائیونگ لائسنس بنانے کا فیصلہ

“چین روس کے ساتھ کھڑا ہے”

چینی صدر شی جن پنگ نے روسی صدر پیوٹن کے ساتھ ٹیلیفونک کال  کے دوران ماسکو کی خود مختاری اور سلامتی کے لیے بیجنگ کی حمایت کا یقین دلایا۔

چینی صدر شی جن پنگ نے مقامی خبر رساں ایجنسی سے دوران گفتگو کہا کہ تمام فریقین کو یوکرین بحران کے مناسب حل کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیئے۔

 

 

ان کامزید کہنا تھا کہ چین بنیادی مفادات، خود مختاری اور سلامتی جیسے خدشات سے متعلق امور پر روس کو باہمی تعاون کی پیش کش جاری رکھے گا۔

یاد رہے، 24 فروری کو یوکرین پر روسی فوجی کارروائی کے بعد سے شی جن پنگ اور پیوٹن کے درمیان یہ دوسری بات چیت تھی۔

اس دوران روسی صدارتی محل کریملن سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے مغرب کی غیر قانونی پابندیوں کی پالیسی کی وجہ سے عالمی معیشت کی بدلتی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی، صنعتی، ٹرانسپورٹ اور متعدد دیگر شعبہ جات میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

چین غلطی کررہا ہے”

امریکہ نے روس کے ساتھ چین کی طرفداری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے یوکرین پر حملہ کرنے میں روسی صدر پیوٹن کا ساتھ دیا ہے وہ تاریخ کی غلط سمت میں کھڑے ہیں۔

علاوہ ازیں، عالمی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک یوکرین کی مدد زبانی جمع خرچ سے کررہے ہیں۔ امریکہ کا یوکرین کی امداد کا اعلان نقصان اٹھانے کے بعد کرنا مضحکہ خیز ہے۔ علاقائی اتحادی روس اور چین اپنے ارادوں میں کافی حد تک کامیاب نظر آرہے ہیں جبکہ مغربی ممالک یوکرین کی امداد کے نام پر صرف “دل بہلا رہے” ہیں۔

مزید پڑھیں:  گاجر اور ناریل کے سوپ کے ان حیرت انگیز فائدوں سے واقف ہیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.