تکبیر نیوز (لندن، برطانیہ): لندن کے میئر صادق خان کو ایک گاڑی کا ٹیکس ادا نہ کرنے کے مقدمے میں ان کی غیر موجودگی میں مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 340 پاؤنڈ سے زائد کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے، تاہم سٹی ہال حکام کا کہنا ہے کہ جس گاڑی کے معاملے میں مقدمہ بنایا گیا، وہ نہ صادق خان کی ملکیت ہے اور نہ ہی ٹرانسپورٹ فار لندن کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے پریس ایسوسی ایشن کے مطابق 55 سالہ صادق خان کو 24 سال پرانی نِسان مائیکرا گاڑی بغیر ٹیکس کے رکھنے کے الزام میں عدالت کا سامنا کرنا پڑا۔
میجسٹریٹس نے گزشتہ ماہ مقدمے کی سماعت کے دوران صادق خان کی غیر موجودگی میں انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے 220 پاؤنڈ جرمانہ، 85 پاؤنڈ عدالتی اخراجات اور 35 پاؤنڈ 84 پنس بقایا گاڑی ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا۔
تاہم سٹی ہال کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے کیونکہ مذکورہ گاڑی صادق خان یا ٹرانسپورٹ فار لندن کی ملکیت نہیں ہے۔
ٹیکس کے خطوط بھی مبینہ طور پر غلط پتے پر بھیجے گئے
مقدمے میں ایک اور غیر معمولی صورتحال اس وقت سامنے آئی جب گاڑی کے ٹیکس سے متعلق ڈرائیونگ اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی (ڈی وی ایل اے) کی جانب سے بھیجے گئے خطوط مبینہ طور پر ٹرانسپورٹ فار لندن کے دفاتر کے بجائے قریب واقع ایک دوسری عمارت کو بھیجے گئے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق خطوط 9 اینڈیور سکوائر کے پتے پر بھیجے گئے، جہاں ایک عمارت میں معروف شیف گورڈن ریمزی کا ریستوران بھی موجود ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ فار لندن کے دفاتر قریبی عمارت میں واقع ہیں۔
ڈی وی ایل اے کا مؤقف ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں مذکورہ گاڑی کے ساتھ صادق خان کا نام اور تاریخ پیدائش درج تھی۔
ریکارڈ کے مطابق گاڑی کا سالانہ ٹیکس گزشتہ سال ستمبر میں ختم ہوگیا تھا اور اسے 24 جنوری کو بغیر ٹیکس کے سڑک پر دیکھا گیا تھا۔
عدالت نے 18 اگست کو صادق خان کی جانب سے کسی درخواست یا جواب موصول نہ ہونے کے بعد انہیں غیر حاضری میں مجرم قرار دیا۔
مقدمہ دوبارہ کھولنے کا امکان
برطانیہ میں اگر کسی شخص کو اس وجہ سے غیر حاضری میں مجرم قرار دیا جائے کہ اسے مقدمے کا علم ہی نہیں تھا تو وہ عدالت سے رجوع کرکے مقدمہ دوبارہ کھولنے کی درخواست کرسکتا ہے۔
اس معاملے میں صادق خان ممکنہ طور پر یہ مؤقف اختیار کرسکتے ہیں کہ انہیں مقدمے کی کارروائی کا علم نہیں تھا کیونکہ متعلقہ خطوط درست پتے پر نہیں پہنچے۔
اگر مقدمہ دوبارہ کھولا جاتا ہے تو ڈی وی ایل اے سے استغاثہ واپس لینے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ یہ ثابت ہوجائے کہ صادق خان کو غلط طور پر مذکورہ گاڑی کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
سٹی ہال حکام کے مطابق اس وقت معاملے اور مقدمے کے تمام حالات کا جائزہ لیا جارہا ہے
