تکبیر نیوز (لندن، برطانیہ): برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم آج بطور وزیراعظم اپنے پہلے وزیراعظم کے سوالات (PMQs) کا سامنا کریں گے، جہاں انہیں نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی ہی جماعت کے بیک بینچ ارکان کی جانب سے بھی سخت سوالات کا سامنا متوقع ہے۔
اینڈی برنہم نے منگل کے روز ہاؤس آف کامنز میں پہلی مرتبہ وزیراعظم کی نشست سے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کے ابتدائی منصوبوں کا اعلان کیا۔
وزیراعظم نے ویسٹ منسٹر سے اختیارات برطانیہ کے مختلف علاقوں کو منتقل کرنے اور پانی، توانائی، ہاؤسنگ سمیت بعض عوامی سہولیات پر دوبارہ زیادہ عوامی کنٹرول قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بریگزٹ، تھَیچر اور کفایت شعاری کو معاشی سست روی کا ذمہ دار قرار
اپنے پہلے پارلیمانی خطاب کے دوران اینڈی برنہم نے برطانیہ کی کئی دہائیوں پر محیط سست معاشی ترقی کا ذمہ دار مارگریٹ تھَیچر کے دور کی پالیسیوں، کفایت شعاری کے عہد اور بریگزٹ کے اثرات کو قرار دیا۔
انہوں نے موجودہ معاشی ماڈل کو تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو دوبارہ معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس مقام پر نہیں جہاں کوئی بھی اسے دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ بہت سے لوگوں کے لیے زندگی ضرورت سے زیادہ مہنگی اور مشکل ہوچکی ہے۔
پانی کی نجی صنعت پر تنقید کرتے ہوئے برنہم نے برطانیہ کے واٹر سیکٹر کو موجودہ نجی ماڈل کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ ملک کو عوامی مفاد کے بجائے نجی مفاد کے تحت چلایا گیا ہے۔
ٹیکسوں میں اضافے پر واضح جواب دینے سے گریز
ہاؤس آف کامنز میں تقریباً تین گھنٹے 23 منٹ کی طویل نشست کے دوران وزیراعظم نے اس سوال کا واضح جواب نہیں دیا کہ 28 اکتوبر کے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔
تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ وزیر خزانہ جان ہیلی اگلے اخراجاتی جائزے تک دفاعی اخراجات کو 2030 تک مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 3 فیصد تک بڑھانے کے لیے درکار مالی وسائل تلاش کرلیں گے۔
وزیراعظم کے مطابق حکومت کی تین بنیادی ترجیحات میں روزمرہ ضروریات کی لاگت کم کرنا، خصوصاً بچوں کی نگہداشت اور رہن کی ادائیگیوں کے اخراجات میں کمی، مقامی کمیونٹیز کی بحالی اور پانی، توانائی اور ہاؤسنگ جیسی بنیادی سہولیات پر زیادہ عوامی کنٹرول شامل ہے۔
ایران جنگ سے معاشی منصوبوں کو خطرہ
تاہم برنہم حکومت کے وسیع اصلاحاتی منصوبوں کو عالمی معاشی صورتحال سے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے درمیان برطانیہ کے طویل مدتی حکومتی قرضوں کی لاگت 28 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی بانڈ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر فروخت اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے مہنگائی میں اضافے کے امکانات کو بھی بڑھا دیا ہے، جس سے حکومت کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات اور اخراجات کے منصوبوں پر عملدرآمد مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
اپنی جماعت کے بیک بینچ ارکان سے بھی چیلنج
وزیراعظم کے پہلے PMQs سے قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ برنہم نے اپنی جماعت کے ارکان پارلیمنٹ کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ مدعو کیا تاکہ غیر رسمی ملاقات کے ذریعے پارٹی کے اندر حمایت حاصل کی جاسکے۔
تاہم بدھ کے روز انتخابی اصلاحات کے معاملے پر لیبر کے بیک بینچ ارکان کی جانب سے برنہم حکومت کے لیے پہلا پارلیمانی چیلنج سامنے آنے کا امکان ہے۔
لیڈز سینٹرل اینڈ ہیڈنگلے کے لیبر رکن پارلیمنٹ ایلکس سوبل انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک قومی کمیشن قائم کرنے کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں۔
انہوں نے ریپریزنٹیشن آف دی پیپل بل میں ایک ترمیم بھی پیش کی ہے جس پر بدھ کو ہاؤس آف کامنز میں بحث ہوگی۔
برنہم نے منگل کو انتخابی اصلاحات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسی تبدیلی کے لیے اگلے عام انتخابات میں اتفاق رائے حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
دوسری جانب سینئر لیبر رکن پارلیمنٹ ڈیم ایملی تھورن بیری نے وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی پیش کردہ ترمیم کی حمایت کریں، جس کے تحت بیرون ملک مقیم ووٹرز کی جانب سے سیاسی جماعتوں کو مالی معاونت فراہم کرنے پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعظم موسم گرما کے دوران تمام سیاسی عطیات پر 5 لاکھ پاؤنڈ کی حد مقرر کرنے کی تجویز سے بھی محتاط رہے تھے، جس کی ایک وجہ لیبر پارٹی کو یونینز کی جانب سے حاصل ہونے والی مالی حمایت پر ممکنہ اثرات کا خدشہ بتایا گیا ہے۔
اینڈی برنہم کے لیے پہلا PMQs اس لحاظ سے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ انہیں نہ صرف کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوک کی جانب سے سوالات کا سامنا ہوگا بلکہ اپنی جماعت کے اندر بڑھتے ہوئے اصلاحاتی مطالبات کو بھی سنبھالنا ہوگا۔
