تکبیر نیوز (پیمبروکشائر، برطانیہ): برطانیہ کے علاقے پیمبروکشائر میں چھٹیوں پر آنے والے 15 سالہ لڑکے کی دو روزہ بڑے پیمانے پر تلاش ختم کردی گئی ہے، تاہم نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
پولیس کے مطابق نوجوان یارکشائر سے چھٹیوں کے لیے پیمبروکشائر آیا ہوا تھا اور اتوار 30 اگست کو مارلوئز سینڈز کے ساحل کے قریب پانی میں مشکل میں پھنس گیا۔
ایچ ایم کوسٹ گارڈ کو تقریباً 3 بج کر 30 منٹ پر اطلاع ملی کہ تین افراد سمندر میں مشکل میں ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔
ان میں سے دو افراد بحفاظت واپس ساحل پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم 15 سالہ لڑکا لاپتا رہا۔
واقعے کے فوراً بعد مختلف اداروں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے کی سرچ اینڈ ریسکیو کارروائی شروع کردی گئی۔
تلاش میں ڈیفڈ پاویس پولیس، ایچ ایم کوسٹ گارڈ اور آر این ایل آئی کے اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ سمندر، فضاء اور قریبی زمینی علاقوں میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔
فضاء، سمندر اور زمین پر بڑا سرچ آپریشن
آپریشن میں براڈ ہیون، ڈیل، سینٹ ڈیوڈز اور لین اسٹیفن کی کوسٹ گارڈ ریسکیو ٹیمیں شامل تھیں۔
اس کے علاوہ اینگل، ٹینبی، سینٹ ڈیوڈز اور لٹل ہیون کی آر این ایل آئی لائف بوٹس بھی تلاش میں شریک رہیں۔
کوسٹ گارڈ کے ہیلی کاپٹر، طیارے اور ڈرون ٹیم کے ساتھ مقامی پائلٹ بوٹ اور ویلش ایمبولینس سروس نے بھی سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔
تلاش کا سلسلہ اتوار کی دوپہر سے شام تک جاری رہا، جس کے بعد رات بھر بھی کارروائی جاری رکھی گئی اور پیر کی صبح روشنی ہوتے ہی دوبارہ بڑے پیمانے پر تلاش شروع کردی گئی۔
تاہم وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کے باوجود لاپتا نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
بعد ازاں مختلف اداروں پر مشتمل سرچ آپریشن ختم کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق نوجوان کے اہل خانہ کو صورتحال سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں اس مشکل وقت میں ماہر افسران کی جانب سے مدد فراہم کی جارہی ہے۔
ڈیفڈ پاویس پولیس نے کہا ہے کہ اس مشکل وقت میں ان کی تمام تر ہمدردیاں نوجوان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
