تکبیر نیوز (بلیک کنٹری، برطانیہ): بلیک کنٹری میں ایک معمر خاتون کو گھر کی دہلیز پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے اطالوی شہری کو 12 ماہ قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
ولورہیمپٹن کراؤن کورٹ میں جمعہ 28 اگست کو سزا سنائے جانے کے وقت لورینزو بینن کی عمر 25 سال تھی، تاہم جرم کے وقت وہ 17 سال کا تھا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ستمبر 2018 میں 70 کی دہائی میں موجود متاثرہ خاتون، جو نقل و حرکت کے مسائل کے باعث واکر استعمال کرتی تھیں، اپنے گھر واپس پہنچ رہی تھیں جب انہوں نے اپنی رہائش گاہ کے باہر بینن کو دیکھا۔
پراسیکیوٹر اپریل بیچ کے مطابق بینن نے خاتون سے بات کرنے کی درخواست کی اور بتایا کہ وہ اکیلا ہے اور اس کی عمر 17 سال ہے۔ خاتون نے اسے تنہا اور معصوم سمجھتے ہوئے کچھ دیر بات کی، تاہم پھر بتایا کہ انہیں اپنی بیٹی کے گھر آنے کی توقع ہے اور انہیں اندر جانا ہوگا۔
بینن خاتون کے پیچھے باغ کے راستے سے گھر کے دروازے تک گیا اور اس سے جنسی تعلق قائم کرنے کی پیشکش کی۔ خاتون نے انکار کیا تو اس نے ان سے انکار کی وجہ پوچھی۔
عدالت کے مطابق جب خاتون اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھیں تو بینن نے دروازہ دھکیل کر کھول دیا اور پورچ میں داخل ہوگیا، جہاں اس نے خاتون کو کپڑوں کے اوپر سے جنسی طور پر ہراساں کیا۔
خاتون نے اسے باہر دھکیلنے کی کوشش کی، تاہم بینن جسمانی طور پر زیادہ طاقتور تھا۔ متاثرہ خاتون نے پڑوسی کو مدد کے لیے پکارا، جس کے قریب آنے پر بینن وہاں سے فرار ہوگیا۔
پولیس نے اٹلی فرار ہونے والے ملزم کا سراغ لگایا
پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے بینن کی شناخت کی، اس کے برطانیہ میں موجود اہل خانہ سے بات کی اور اٹلی میں اس کے والد سے بھی رابطہ کیا۔
بعد ازاں بینن کو پولیس کے قومی مطلوب افراد کے نظام میں شامل کردیا گیا۔
اپریل 2025 میں گیٹ وک ایئرپورٹ کے عملے نے پولیس کو بتایا کہ بینن برطانیہ واپس آنے والا ہے۔ برطانیہ پہنچتے ہی اسے گرفتار کرلیا گیا۔
بینن، جو ملٹن کینز کے پولروان پلیس کا رہائشی ہے، گرفتاری کے بعد سے برطانیہ میں موجود ہے جبکہ اس کا پاسپورٹ بھی ضبط کرلیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گرفتاری سے قبل وہ اٹلی میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں کام کرتا تھا۔
اس کے وکیل جیرارڈ کولبن نے عدالت کو بتایا کہ بینن جرم کے وقت برطانیہ میں چھٹیوں پر آیا ہوا تھا اور واقعے کے بعد اٹلی واپس چلا گیا تھا۔
وکیل کے مطابق بینن کے پاس برطانیہ یا اٹلی میں کوئی سابقہ سزا نہیں تھی اور 2018 کے واقعے کے بعد اس نے کوئی اور جرم نہیں کیا۔
عدالت میں پیش کی گئی سزا سے قبل رپورٹ میں تاہم اس کے اندر جنسی معاملات سے متعلق نمایاں مشغولیت کی نشاندہی کی گئی۔
جج نے متاثرہ خاتون کو انتہائی کمزور قرار دیا
جج جوناتھن گوسلنگ نے قرار دیا کہ بینن نے واضح طور پر ایک انتہائی کمزور خاتون کو نشانہ بنایا تھا۔
جج نے کہا کہ واقعے کے کئی سال گزرنے کے باوجود متاثرہ خاتون اب بھی اپنے گھر میں خود کو غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتی ہیں۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ کیس میں تاخیر کی ذمہ داری بینن پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ گرفتاری کے امکان سے آگاہ ہوتے ہوئے ملک سے فرار ہوگیا تھا۔
جج گوسلنگ کے مطابق جرم کی سنگینی، واقعے کے متاثرہ خاتون کے اپنے گھر میں پیش آنے اور اس کے نفسیاتی اثرات کے باعث فوری طور پر جیل بھیجنا ہی مناسب سزا تھی۔
عدالت نے بینن پر پانچ سالہ پابندی کا حکم بھی عائد کیا، جس کے تحت اسے متاثرہ خاتون سے رابطے سے روکا گیا ہے۔
لورینزو بینن کو عدالت میں اطالوی مترجم کی مدد بھی فراہم کی گئی۔
عدالت نے اسے 12 ماہ قید کی سزا سنانے کے ساتھ 10 سال تک جنسی جرائم کے رجسٹر پر دستخط کرنے کا حکم بھی دیا۔
جج گوسلنگ نے کہا کہ واقعے نے متاثرہ خاتون کی زندگی کو تبدیل کردیا ہے اور اتنے سال گزرنے کے باوجود وہ اپنے ہی گھر میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
