تکبیر نیوز (برمنگھم، برطانیہ): برمنگھم میں سپورٹڈ ایکزمپٹ رہائش کے شعبے پر بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کے درمیان شہر کے بڑے فراہم کنندگان میں شامل سسٹین یو کے نے شعبے کے دفاع کے ساتھ ساتھ نئے اور سخت قوانین فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
سسٹین یو کے برمنگھم کے ’بگ فائیو‘ سپورٹڈ ایکزمپٹ رہائش فراہم کنندگان میں شامل ہے۔ کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسے بے ضابطہ مالکان اور آپریٹرز کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے جو کمزور اور ضرورت مند کرایہ داروں کو صرف مالی فائدے کے ذریعے دیکھتے ہیں۔
شعبے سے متعلق متعدد تحقیقات اور مقامی رہائشیوں کی جانب سے چلائی جانے والی مہمات میں کرایہ داروں کے استحصال، جرائم پیشہ عناصر سے روابط اور مقامی آبادی کے مسائل کو نظر انداز کیے جانے جیسے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
مقامی رہائشیوں، کمیونٹی رہنماؤں اور سیاست دانوں نے بھی برمنگھم میں ایکزمپٹ رہائش کے پھیلاؤ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ایسی صورتحال میں سسٹین یو کے سمیت بعض رہائش فراہم کنندگان نے سپورٹڈ ایکزمپٹ اکو موڈیشن فورم کے ذریعے شعبے کے دفاع اور اصلاحات کے لیے اقدامات شروع کیے ہیں۔
سسٹین یو کے کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو بل فلڈ اور آپریشنز ڈائریکٹر ٹام بارویل نے ایک گفتگو میں بتایا کہ کمپنی نے رہائشی علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
ان اقدامات میں اینٹی سوشل رویے سے نمٹنے کے لیے نیبرہڈ ٹیننٹ لائژن ٹیموں کا قیام، ایسے علاقوں میں مزید پراپرٹیز نہ کھولنا جہاں پہلے ہی سپورٹڈ رہائش کی تعداد زیادہ ہے، بعض پراپرٹیز کو دوبارہ خاندانی گھروں میں تبدیل کرنا اور کرایہ داروں کے اطمینان اور نتائج کو بہتر بنانا شامل ہے۔
کمپنی کے عہدیداروں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ شعبے میں موجود مسائل نے ایکزمپٹ رہائش فراہم کرنے والوں کی مجموعی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
ریگولیٹر کی جانب سے ’نان کمپلائنٹ‘ قرار
سسٹین یو کے اس وقت تقریباً 300 پراپرٹیز میں 1,500 کرایہ داروں کی نگرانی کر رہا ہے، جن میں زیادہ تر سابق خاندانی گھر شامل ہیں۔
تاہم ریگولیٹر آف سوشل ہاؤسنگ نے کمپنی کو گورننس اور مالی استحکام سے متعلق مقررہ معیار پورا نہ کرنے پر ’نان کمپلائنٹ‘ قرار دے رکھا ہے۔
بل فلڈ نے اعتراف کیا کہ کمپنی سے ماضی میں ہر معاملہ درست انداز میں نہیں نمٹا اور بتایا کہ سسٹین یو کے ریگولیٹر اور برمنگھم سٹی کونسل کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مقررہ معیار پورا کیا جاسکے اور رہائش کے نئے معیار پر عمل درآمد یقینی بنایا جاسکے۔
اس کے باوجود کمپنی کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ ٹیننٹ سیٹسفیکشن پیمائش میں 92 فیصد اسکور حاصل ہوا، جو ملک میں بلند ترین اسکورز میں شمار ہوتا ہے۔
بل فلڈ کے مطابق بعض فراہم کنندگان کرایہ داروں کی مناسب دیکھ بھال اور مسائل کے حل کے لیے کام کر رہے ہیں، جبکہ کچھ آپریٹرز کے اقدامات پورے شعبے کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔
نئے کرایہ داروں کی سخت جانچ پڑتال
ٹام بارویل نے ان دعوؤں کی تردید کی کہ بعض کمپنیاں معمولی جانچ پڑتال کے بعد لوگوں کو پراپرٹیز میں منتقل کردیتی ہیں۔
ان کے مطابق نئے کرایہ داروں کے لیے ایک تفصیلی جانچ اور جائزے کا عمل موجود ہے، جس میں مکمل انٹرویو، ضروریات کا جائزہ اور یہ فیصلہ شامل ہوتا ہے کہ کس پراپرٹی میں رہائش ان کے لیے زیادہ موزوں ہوگی۔
کمپنی مینیجنگ ایجنٹس کے ساتھ مل کر کرایہ داروں کے لیے واضح سپورٹ پلانز بھی تیار کرتی ہے۔
ٹام بارویل کا کہنا تھا کہ بعض کرایہ دار بظاہر معمولی نوعیت کی ضروریات کے ساتھ سامنے آتے ہیں، لیکن تفصیلی جائزے کے دوران بعض اوقات نشے کی عادت یا طویل عرصے سے جاری ذہنی مشکلات جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔
ان کے مطابق پراپرٹیز میں حقیقی اور عملی مدد فراہم کرنے کے لیے وقت صرف کرنا ضروری ہے، جبکہ فراہم کی جانے والی خدمات کے ریکارڈ بھی انسپکٹرز اور متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کیے جاتے ہیں۔
اینٹی سوشل رویے کی تقریباً 100 شکایات
گزشتہ ایک سال کے دوران سسٹین یو کے کو اپنے تقریباً 1,500 کرایہ داروں سے متعلق 330 کے قریب سروس ریکویسٹس موصول ہوئیں۔
ان میں کرایہ داروں، پڑوسیوں اور پولیس سمیت مختلف اداروں کی جانب سے شکایات یا مداخلت کی درخواستیں شامل تھیں۔
ان شکایات میں سے تقریباً ایک چوتھائی، یعنی 100 سے کم معاملات، اینٹی سوشل رویے سے متعلق تھے۔
کمپنی کے مطابق زیادہ تر شکایات کو سات دن کے اندر حل کردیا گیا، تاہم 17 معاملات کو باضابطہ اینٹی سوشل بیہیوئر تحقیقات تک پہنچایا گیا۔
ان کیسز میں مبینہ طور پر غنڈہ گردی، منشیات یا شراب کے استعمال اور مسلسل خراب رویے جیسے مسائل شامل تھے۔
بے دخلی آخری آپشن قرار
بل فلڈ نے کہا کہ کرایہ دار کو بے دخل کرنا کمپنی کے لیے آخری راستہ ہے۔
ان کے مطابق بار بار مختلف پراپرٹیز میں منتقل ہونے سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں، تاہم سنگین حالات میں بے دخلی کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی رہائش سے کرایہ دار کو بے دخل کرنے کے لیے قانونی معیار انتہائی سخت ہے اور بعض معاملات میں عدالتیں بھی بے دخلی کے احکامات جاری کرنے سے گریز کرتی ہیں تاکہ ضرورت مند افراد کے پاس رہائش برقرار رہے۔
برمنگھم میں مجموعی طور پر 32 ہزار سے زائد کرایہ دار ایسے 12 ہزار سے زیادہ ایکزمپٹ پراپرٹیز میں رہتے ہیں جن کے لیے ’کم سے زیادہ‘ سپورٹ کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کسی بھی دوسرے برطانوی شہر کے مقابلے میں برمنگھم میں اس شعبے کا حجم غیر معمولی طور پر بڑا ہے۔
سسٹین یو کے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگلے سال متوقع نئے قوانین خوش آئند اور ضروری ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے شعبے پر عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ناقص طریقہ کار اختیار کرنے والے آپریٹرز کو باہر نکالنے میں مدد مل سکتی ہے۔
