تکبیر نیوز (ویسٹ مڈلینڈز، برطانیہ): نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ویسٹ مڈلینڈز میں ایک تہائی سے زائد بچے غربت کا شکار ہیں جبکہ بعض علاقوں میں بچوں کی غربت کی شرح 60 فیصد سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز اسٹیٹ آف دی ریجن 2026 کی سالانہ جائزہ رپورٹ کے مطابق برمنگھم، کووینٹری، ڈڈلی، سینڈویل، سولہل، والسال اور وولورہیمپٹن پر مشتمل ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کے علاقے میں 36 فیصد بچے غربت سے متاثر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق برمنگھم کے لیڈی وڈ جیسے بعض علاقوں میں بچوں کی غربت کی شرح 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔ رپورٹ کو ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کی لوکل اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
خطے میں محرومی کی صورتحال
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کے علاقے کی چار مقامی اتھارٹیز انگلینڈ کے 30 سب سے زیادہ محروم علاقوں میں شامل ہیں۔
برمنگھم خطے کا سب سے زیادہ محروم علاقہ قرار دیا گیا ہے اور انگلینڈ بھر میں اس کا درجہ پانچواں ہے، جبکہ سینڈویل 19ویں، وولورہیمپٹن 23ویں اور والسال 28ویں نمبر پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویسٹ مڈلینڈز کی متنوع اور نوجوان آبادی خطے کے لیے اہم مواقع اور طاقت کا ذریعہ ہے، تاہم اس کے ساتھ گہری اور دیرینہ معاشی و سماجی ناہمواریاں بھی موجود ہیں جو بچپن سے ہی لوگوں کے مستقبل کے مواقع کو متاثر کرتی ہیں۔
تقریباً 14 لاکھ افراد شدید محرومی والے علاقوں میں
2025 کے انڈیکس آف ملٹی پل ڈیپریویشن کے مطابق تقریباً 14 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں رہتے ہیں جو انگلینڈ کے 20 فیصد سب سے زیادہ محروم علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان میں سے 8 لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد انگلینڈ کے 10 فیصد سب سے زیادہ محروم علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
بچوں پر آمدنی کی محرومی کے اثرات جانچنے والے انڈیکس کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کے علاقے میں تقریباً 49 فیصد بچے کم آمدنی والے گھرانوں میں رہتے ہیں۔
یہ شرح مختلف علاقوں میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ برمنگھم میں تقریباً 62 فیصد بچے کم آمدنی سے متاثر ہیں جبکہ سولہل میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد ہے۔
کم آمدنی والے گھرانوں میں بچوں کی تعداد میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق 2023/24 کے دوران ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کے علاقے میں تقریباً 2 لاکھ 80 ہزار بچے ایسے گھرانوں میں رہ رہے تھے جن کی آمدنی نسبتاً کم تھی۔
یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8,600 بچوں کے اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
وسیع تر ویسٹ مڈلینڈز ریجن میں تقریباً ہر چار میں سے ایک شخص غربت کا شکار ہے، جو لندن کے بعد انگلینڈ میں غربت کی دوسری بلند ترین شرح ہے۔
رپورٹ کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز کمبائنڈ اتھارٹی کے علاقے میں بچوں کی غربت 36 فیصد ہے جبکہ لیڈی وڈ، برمنگھم جیسے بعض علاقوں میں یہ شرح 60 فیصد سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔
